تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 633 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 633

تاریخ احمدیت۔جلدا ۶۳۲ مقدمه اقدام قتل اور بریت عبد الحمید کو پولیس کی تحویل میں دیئے جانے کا حکم بیمار چیڑ نے کہا اس میں کسی کا حکم اور کا قصور نہیں آپ کا اپنا قصور ہے آپ نے گواہ کو پادریوں کے حوالہ کیا ہوا ہے۔وہ لوگ جو کچھ اسے سکھاتے ہیں وہ عدالت میں آکر بیان کر دیتا ہے چنانچہ اسی وقت ڈگلس نے کاغذ منگوایا اور حکم دے دیا کہ عبد الحمید کو پولیس کے حوالہ کیا جائے - m سازش کا انکشاف چنانچہ اگلے ہی دن ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس مسٹر لیمار چنڈ نے میاں محمد بخش ڈپٹی انسپکٹر پولیس کو انار کلی بھیج کر نہال چند منشی کو اپنے پاس بلا لیا۔رستہ میں وارث دین نے عبد الحمید کو تاکید کی کہ وہ پہلا بیان نہ بدلے۔تم کو ڈاکٹر صاحب نے وعدہ معافی دیا ہوا ہے۔دو سکھ سپاہیوں نے بھی یہی زور دیا۔بٹالہ کے مدرس نہا لچند نے بھی یہی کہا۔بلکہ صبح کو عبد الغنی عیسائی نے شیخ وارث دین اور یوسف کا یہ پیغام دیا کہ تم کو ڈاکٹر صاحب سے معافی دلوا دیں گے اور تم بیچ رہو گے۔اگر پہلے بیان پر قائم رہے۔مسٹر لیمار چنڈ کو چونکہ مصروفیت تھی۔اس لئے انہوں نے میاں محمد بخش ڈپٹی انسپکٹر پولیس اور ایک انسپکٹر پولیس جلال الدین صاحب کا پہرہ اس پر مقرر کر دیا۔اور خود قریب ہی جہاں وہ دکھائی دیتا تھا کام کرنے لگے۔جب کافی دیر ہو گئی تو انسپکٹر پولیس نے ان سے کہا کہ اگر فرصت نہیں ہے تو عبد الحمید کو واپس انار کلی بھیج دیا جائے۔کیونکہ وہ جانا چاہتا ہے۔اور مقدمہ کی بابت کچھ اصلیت ظاہر نہیں کرتا۔تب مسٹر یمار چنڈ نے عبد الحمید کو بلوالیا۔اور پوچھ کچھ شروع کی۔لیکن اس نے وہی پہلی داستان دوہرائی جو دو صفحے میں لکھ لی گئی اور ساتھ ہی اس سے کہا۔کہ ہم اصلیت دریافت کرنا چاہتے ہیں تم ناحق وقت کیوں ضائع کرتے ہو۔اب تمہیں انار کلی نہیں بھیجا جائے گا۔گورداسپور لے جاویں گے بس یہ کہنا ہی تھا کہ عبد الحمید ان کے پاؤں پر گر کر زار و قطار رونے لگا اور اس نے سازش کا انکشاف کرتے ہوئے سارا قصہ بے کم و کاست کہہ ڈالا۔اور صاف لفظوں میں اعتراف کیا کہ جو کچھ میں بیان دیتا رہا ہوں محض ان کے سکھانے پر دیتا رہا ہوں۔اس واقعہ کے چار روز بعد امرت سرسے پادری ایچ۔جی۔گرے اور نور دین کی چھٹیاں بھی عدالت میں پہنچ گئیں جن سے اس بیان کی مزید تصدیق ہو گئی۔حضور کی الزام قتل سے بریت اور دشمن کو عفو عام عبدالحمید نے ۲۰۔اگست کو سرکاری گواہ کے طور پر عدالت میں اپنا اصل بیان پڑھا تو پادریوں اور ان کے لگے بندھوں کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔پادری مارٹن کلارک نے اپنے آخری بیان میں اپنی معصومیت " کا اظہار کرنے کے لئے ادھر ادھر