تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 632 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 632

تاریخ احمدیت جلدا ۶۳۱ مقدمہ اقدام قتل اور بریت اتنی ہی اس کی شہادت مفصل اور طویل ہوتی گئی ہے جس پر وہ اس نتیجہ تک پہنچے کہ یا تو کوئی شخص یا اشخاص اسے سکھلاتے ہیں یا یہ کہ اس کو اور زیادہ علم ہے جتنا کہ وہ اب تک ظاہر کر چکا ہے۔مسٹرڈ گلس کو کشفی نظاروں کے ذریعہ سے راہ نمائی راجہ غلام حیدر ہی کا بیان ہے کہ ” جب عدالت ختم ہوئی تو اپٹی کمشنر صاحب نے کہا۔ہم فور اگورداسپور جانا چاہتے ہیں۔تم ابھی جا کر ہمارے لئے ریل کے کمرے کا انتظام کرو۔چنانچہ میں مناسب انتظامات کرنے کے لئے ریلوے اسٹیشن پر گیا۔میں اسٹیشن سے نکل کر بر آمدہ میں کھڑا تھا تو میں نے دیکھا کہ سرڈگلس سڑک پر ٹہل رہے ہیں اور کبھی ادھر جاتے ہیں اور کبھی ادھر۔ان کا چہرہ پریشان ہے۔میں ان کے پاس گیا اور کہا۔صاحب آپ باہر پھر رہے ہیں۔میں نے دیٹنگ روم میں کرسیاں بچھائی ہوئی ہیں۔آپ وہاں تشریف رکھیں۔وہ کہنے لگے۔منشی صاحب آپ مجھے کچھ نہ کہیں۔میری طبیعت خراب ہے۔میں نے کہا کچھ بتا ئیں تو سہی۔آخر آپ کی طبیعت کیوں خراب ہو گئی ہے۔تاکہ اس کا مناسب علاج کیا جا سکے۔اس پر وہ کہنے لگے میں نے جب سے مرزا صاحب کی شکل دیکھی ہے اس وقت سے مجھے یوں نظر آتا ہے کہ کوئی فرشتہ مرزا صاحب کی طرف ہاتھ کر کے مجھ سے کہہ رہا ہے کہ مرزا صاحب گنہگار نہیں۔ان کا کوئی قصور نہیں۔پھر میں نے عدالت کو ختم کر دیا۔اور یہاں آیا تو اب ملتا ملتا جب اس کنارے کی طرف جاتا ہوں تو وہاں مجھے مرزا صاحب کی شکل نظر آتی ہے اور وہ کہتے ہیں۔میں نے یہ کام نہیں کیا یہ سب جھوٹ ہے۔پھر میں دوسری طرف جاتا ہوں تو وہاں بھی مرزا صاحب کھڑے نظر آتے ہیں اور وہ کہتے ہیں۔یہ سب جھوٹ ہے۔میں نے یہ کام نہیں کیا۔اگر میری یہی حالت رہی تو میں پاگل ہو جاؤں گا۔میں نے کہا صاحب آپ چل کر ویٹنگ روم میں بیٹھئے۔سپرنٹنڈنٹ پولیس بھی آئے ہوئے ہیں وہ بھی انگریز ہیں ان کو بلا لیتے ہیں۔شاید ان کی باتیں سن کر آپ تسلی پا جائیں۔سپرنٹنڈنٹ صاحب کا نام لیمار چنڈ تھا۔سرڈگلس نے کہا انہیں بلوا لو۔چنانچہ میں انہیں بلا لایا۔جب وہ آئے تو سرڈگلس نے ان سے کہا دیکھو یہ حالات ہیں۔میری جنون کی سی حالت ہو رہی ہے میں اسٹیشن پر ملتا ہوں اور گھبرا کر اس طرف جاتا ہوں تو وہاں کنارے پر مرزا صاحب کھڑے نظر آتے ہیں اور ان کی شکل مجھے کہتی ہے میں بے گناہ ہوں مجھ پر جھوٹا مقدمہ کیا گیا ہے۔پھر دوسری طرف جاتا ہوں تو وہاں کنارے پر مجھے مرزا صاحب کی شکل نظر آتی ہے۔اور وہ کہتی ہے کہ میں بے گناہ ہوں یہ سب کچھ جھوٹ ہے جو کیا جا رہا ہے۔میری یہ حالت پاگلوں سی ہے۔اگر تم اس سلسلہ میں کچھ کر سکتے ہو تو کرو۔ورنہ میں پاگل ہو جاؤں گا۔