تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 631
تاریخ احمدیت۔جلدا مقدمه اقدام قتل اور بریت صاحب بہادر نے ڈاکٹر کلارک سے دریافت کیا تو انہوں نے صاف اقرار کیا کہ ”ہاں میرے پاس بیٹھے ہوئے اس مقدمہ کی گفتگو کر رہے تھے۔پھر مولوی فضل الدین صاحب وکیل نے پوچھا کہ ” آپ ان دنوں امر تسر سے بٹالہ تک ڈاکٹر ہنری مارٹن لارک کے ہم سفر تھے ؟ اور آپ کا ٹکٹ بھی ڈاکٹر صاحب نے خرید کیا تھا؟ تو مولوی محمد حسین صاحب صاف منکر ہو گئے۔بعض وقت انسان اپنے خیالات کا اظہار بلند آواز سے کر گزرتا ہے۔یہی حال اس وقت میرا بھی ہوا۔میرے منہ سے بے ساختہ نکلا کہ " یہ تو بالکل جھوٹ ہے "۔تب ڈاکٹر مارٹن کلارک صاحب سے ڈپٹی کمشنر صاحب نے پھر پوچھا تو انہوں نے اقرار کیا کہ ”مولوی صاحب میرے ہم سفر تھے اور ان کا ٹکٹ بھی میں نے ہی خریدا تھا۔اس پر صاحب ڈپٹی کمشنر حیران ہو گئے آخر انہوں نے یہ نوٹ مولوی محمد حسین صاحب کی شہادت کے آخر لکھا کہ گواہ کو مرزا صاحب سے عداوت ہے جس کی وجہ سے اس نے مرزا صاحب کے خلاف بیان دینے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا۔اس لئے مزید شہادت لینے کی ضرورت نہیں " مولوی محمد حسین صاحب شہادت کے بعد کمرہ عدالت سے باہر نکلے تو برآمدہ میں ایک آرام کرسی پڑی تھی اس پر بیٹھ گئے۔کانسٹیبل نے وہاں سے انہیں اٹھا دیا کہ کپتان صاحب پولیس کا حکم نہیں ہے "۔پھر مولوی صاحب موصوف ایک بچھے ہوئے کپڑے پر جا بیٹھے جن کا کپڑا تھا انہوں نے یہ کہہ کر کپڑا کھینچ لیا۔کہ مسلمانوں کا سرغنہ کہلا کر اس طرح صریح جھوٹ بولنا۔بس ہمارے کپڑے کو نا پاک نہ کیجئے"۔تب مولوی نور الدین صاحب نے اٹھ کر مولوی محمد حسین صاحب کا ہاتھ پکڑ لیا۔اور کہا کہ "آپ یہاں ہمارے پاس بیٹھ جائیں۔ہر ایک چیز کی ایک حد ہونی چاہیے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو چادر سے اٹھانے والے مولوی محمد حسین صاحب (سابق) مبلغ کشمیر) کے والد میاں محمد بخش صاحب بٹالوی تھے جو اس وقت نہ صرف احمدی نہیں تھے بلکہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے عقیدت مندوں میں شامل تھے اس دن مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے عدوان رسول سے مل کر شرمناک مظاہرہ کیا تو ان کی دینی غیرت نے یہ گوارا نہ کیا کہ پادریوں کی مدد کرنے والا شخص ان کی چادر پلید کرے۔عبد الحمید کا مشتبه بیان اس دن مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے علاوہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک ، پریم داس اور خود عبد الحمید کے بیانات بھی ہوئے عبد الحمید کا یہ دوسرا بیان تھا جو بٹالہ میں ہوا۔ولیم ڈگلس نے (جیسا کہ بعد کو اپنے فیصلہ میں لکھا) عبد الحمید کے بیان کو شروع ہی سے بعید از عقل خیال کیا پھر اس بیان میں جو اس نے امرت سر میں داخل عدالت کیا اختلافات تھے۔اور وہ اس کی وضع قطع سے جب کہ وہ شہادت دیتا تھا مطمئن نہیں تھے اس کے علاوہ انہوں نے کمال ذہانت سے یہ بھی بھانپ لیا کہ جتنی دیر تک وہ بٹالہ مشن کے ملازموں کی زیر نگرانی رہا۔