تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 630 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 630

تاریخ احمدیت۔جلدا ۶۲۹ مقدمه اقدام قتل اور بریت شہادت دیں"۔تب مولوی صاحب نے کہا کہ ”میں جب کبھی لاٹ صاحب کے حضور میں جاتا ہوں تو مجھے کرسی پر بٹھایا جاتا ہے۔میں اہلحدیث کا سرغنہ ہوں"۔تب صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نے گرم الفاظ میں ڈانٹا اور کہا کہ ”نج کے طور پر اگر لاٹ صاحب نے تم کو کرسی پر بٹھایا تو اس کے یہ معنے نہیں کہ عدالت میں بھی تمہیں کرسی دی جائے"۔خیر جب شہادت شروع ہوئی۔تو مولوی صاحب نے جس قدر الزامات کسی شخص کی نسبت لگائے جا سکتے ہیں مرزا صاحب پر لگائے لیکن جب مولوی فضل دین صاحب وکیل حضرت مرزا صاحب نے جرح میں مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب سے معافی مانگ کر اس قسم کا سوال کیا جس سے ان کی شرافت یا کیریکٹر پر دھبہ لگتا تھا تو سب حاضرین نے متعجبانہ طور پر دیکھا کہ جناب مرزا صاحب اپنی کرسی سے اٹھے اور مولوی فضل دین صاحب کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور فرمایا کہ میری طرف سے اس قسم کا سوال کرنے کی نہ تو ہدایت ہے اور نہ اجازت ہے آپ اپنی ذمہ داری پر بہ اجازت عدالت اگر پوچھنا چاہیں تو آپ کو اختیار ہے"۔قدرتی طور پر صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کو دلچسپی ہوئی اور انہوں نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ کیا اس سوال کی بابت تم کو کچھ حال معلوم ہے میں نے نفی میں جواب دیا۔مگر کہا کہ اگر آپ معلوم کرنا چاہتے ہیں تو جب آپ لنچ کے لئے اٹھیں گے تو میں معلوم کرنے کی کوشش کروں گا۔چنانچہ جب نماز ظہر کا وقت ہوا تو صاحب ڈپٹی کمشنر لنچ کے لئے اٹھ گئے۔تو میں نے شیخ رحمت اللہ صاحب کی معرفت حضرت مرزا صاحب سے دریافت کروایا کہ کیا ماجرا ہے حضرت مرزا صاحب نے نہایت افسوس کے ساتھ شیخ رحمت اللہ صاحب کو بتایا کہ مولوی محمد حسین صاحب کے والد کا ایک خط ہمارے قبضہ میں ہے جس میں کچھ نکاح کے حالات اور مولوی محمد حسین صاحب کی بدسلوکیوں کے قصے ہیں جو نہایت قابل اعتراض ہیں مگر ساتھ ہی حضرت مرزا صاحب نے فرمایا کہ ہم ہرگز نہیں چاہتے کہ اس قصہ کا ذکر مسل پر لایا جاوے یا ڈپٹی کمشنر صاحب اس سے متاثر ہو کر کوئی رائے قائم کریں"۔میں نے شیخ رحمت اللہ صاحب سے سنکر لنچ والے کمرہ میں جاکر ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کے روبرو جو ڈپٹی کمشنر صاحب کے ساتھ لنچ میں شامل تھے۔ڈپٹی کمشنر صاحب بہادر کو یہ ماجر اسنادیا اس پر خود ڈاکٹر مارٹن ہنری کلارک بہت ہے۔صاحب ڈپٹی کمشنر نے کہا یہ امر تو ہمارے اختیار میں ہے۔کہ ہم اس ماجرے کو قلمبند نہ کریں مگر یہ بات ہمارے اختیار سے باہر ہے کہ ہمارے دل پر اثر نہ ہو"۔لنچ کے بعد جب مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب دوبارہ جرح کے لئے عدالت میں پیش ہوئے تو مولوی فضل دین صاحب وکیل نے ان سے سوال کیا کہ آپ آج ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب کی کوٹھی پر ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ؟ تو انہوں نے صاف انکار کر دیا۔جس پر بے ساختہ میں چونک پڑا۔ڈپٹی کمشنر صاحب نے مجھ سے اس چونکنے کی وجہ پوچھی تو میں نے ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کی طرف اشارہ کیا۔