تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 624 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 624

تاریخ احمدیت۔جلدا ۶۲۳ مقدمہ القدام قتل اور بریت جاری کر دیئے جانے تک پہنچا دیا گیا۔مگر حضرت اقدس اور جماعت کو اس کی قطعا خبر نہیں تھی۔خدائی تصرفات و عجائبات که وارنٹ کا کاغذ کہیں غائب ہو گیا چند دن بعد ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو از خود خیال آیا کہ اس نے وارنٹ کا یہ حکم خلاف قانون دیا ہے۔وہ گورداسپور کے کسی ملزم کے نام وارنٹ جاری نہیں کر سکتا۔چنانچہ اس نے ے۔اگست کو ڈپٹی کمشنر گورداسپور دلیم ما نمیگو ڈگلس کو تار دیا کہ مرزا غلام احمد صاحب کی گرفتاری کا جو وارنٹ جاری کیا گیا ہے اسے فی الحال منسوخ سمجھا جائے۔دلیم ما نمیگو ڈگلس نے اپنے ریڈر راجہ غلام حیدر خان سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ ایسا دارنٹ آیا ہی نہیں ہے۔حسن اتفاق سے ان دنوں گورداسپور حضرت چوہدری رستم علی صاحب کورٹ انسپکٹر تھے انہیں جو اس تار کا علم ہوا تو دوپہر کے وقت بھاگے ہوئے منشی عبد العزیز صاحب کے پاس اوجلہ پہنچے اور انہیں بتایا کہ وارنٹ تو ہمارے پاس ابھی تک کوئی نہیں پہنچا۔لیکن ہمارے اس ضلع میں حضرت اقدس کے سوا رزا غلام احمد صاحب اور کون ہو سکتے ہیں؟ اس لئے آپ فورا قادیان جاکر اس کی اطلاع حضرت صاحب کو دے آئیں۔چنانچہ منشی صاحب اسی وقت قادیان کو روانہ ہو گئے۔قادیان اوجلہ سے کوئی ۷ امیل کے فاصلہ پر ہے۔وہ سیکھواں سے ہوتے ہوئے شام یا صبح کو قادیان پہنچے اور ساری کیفیت حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کی۔لیکن حضور نے اس وقت کوئی توجہ نہ فرمائی۔عصر کے بعد حافظ احمد اللہ صاحب بھی امرت سر آئے اور انہوں نے بھی یہ اطلاع دی کہ کسی پادری نے حضور پر امرت سر میں دعویٰ کر دیا ہے جس کی خبر کسی طرح انہیں مل گئی ہے یہ بات سن کر حضور نے منشی عبد العزیز صاحب کو بلوایا اور فرمایا کہ " آپ کی بات کی تصدیق ہو گئی ہے فور اگورداسپور جا کر چوہدری رستم علی صاحب سے مفصل حالات دریافت کر کے لاؤ۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوائی بھی اس وقت قادیان میں تھے منشی صاحب نے انہیں ساتھ لیا۔اور دونوں اس روز شام کو گورداسپور پہنچے۔چوہدری رستم علی صاحب نے بتایا کہ مجھے تو اس وقت تک اس سے زیادہ علم نہیں ہو سکا۔آپ فورا امرت سر چلے جائیں اور وہاں کے کورٹ انسپکٹر سے جس کا نام پنڈت ہر چرن داس ہے میرا نام لے کر معاملہ دریافت کریں۔چوہدری صاحب نے ریلوے پولیس کے ایک کنسٹیبل کو انکے ہمراہ کر دیا۔جو انہیں رات اپنے ہاں رکھ کر اگلے دن صبح پنڈت صاحب کے مکان پر لے گیا۔پنڈت صاحب نے ان سے کہا کہ مجھے صرف اس قدر علم ہے کہ ایک دن ڈپٹی کمشنر صاحب اور سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس نے مجھے بلوا کر یہ دریافت کیا تھا کہ اگر مستغیث امر تسر کا رہنے والا ہو اور ملزم ہوشیار پور کا تو کیا دعوئی امرت سر میں کیا جا سکتا ہے اور میں نے جواب دیا تھا کہ اگر وقوعہ بھی ہوشیار پور کا ہے تو دعوئی بھی وہیں کیا جا سکتا ہے چنانچہ ہر دو صاحب میرے ساتھ اس امر پر