تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 625 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 625

تاریخ احمدیت۔جلدا ۶۴۴ مقدمه اقدام قتل اور بریت بحث کرتے رہے۔پنڈت صاحب نے نائب کو رٹ کو بھی بلا کر دریافت کیا لیکن اس نے بھی کوئی اطلاع نہ دی۔منشی صاحب بس اتنی خبر لے کر گورداسپور آئے اور چوہدری رستم علی صاحب کو بتایا۔انہوں نے مشورہ دیا کہ حضرت اقدس کی خدمت میں اسی طرح جا کر عرض کر دو۔چنانچہ منشی صاحب اور میاں خیر الدین صاحب قادیان آئے اور حضور کی خدمت میں تمام حالات عرض کر دیئے۔جس روز یہ بزرگ قادیان کو روانہ ہوئے اسی روز امرت سر سے دوسرا حکم گورداسپور آگیا کہ پادری ہنری مارٹن کلارک نے جو استغاثہ زیر دفعہ ۷ ا ضابطہ فوجداری امرت سر میں دائر کیا ہے اور جس کا وارنٹ پہلے بھیجا جا چکا ہے اور جس کے روکنے کے لئے تار بھی دیا گیا تھا وہ مقدمہ ضلع گورداسپور میں منتقل کیا جاتا ہے اس پر گورداسپور سے حضرت اقدس علیہ السلام کے نام نوٹس جاری کر دیا گیا کہ اگلے روز (۰)- اگست ۱۸۹۷ء کو ڈپٹی کمشنر کا مقام بٹالہ میں ہو گا آپ وہیں پیش ہوں چودھری رستم علی صاحب نے اس حکم کے جاری ہونے سے پہلے موضع ارجلہ میں آکر منشی عبد العزیز صاحب کے چھوٹے بھائی منشی عبد الغنی صاحب کو جو اس وقت سکول میں تعلیم پارہے تھے ایک خط اس مضمون کا لکھوا کر دیا کہ کل بٹالہ میں حضور کی پیشی ہے اس کا انتظام کر لینا چاہیے۔یہ خط چودھری صاحب نے منشی عبد العزیز صاحب ہی کے ایک ملازم کے ہاتھ روانہ کر دیا۔منشی عبد العزیز صاحب اور میاں خیر دین صاحب قاریان پہنچے تو اس ملازم کو قادیان میں دیکھ کر سخت حیران ہوئے کہ وہ اتنی جلدی کیو نکر پہنچ گیا ہے اس نے انہیں وہ خط دیا کہ اس کی اطلاع حضور کی خدمت میں کی گئی۔حضور اسی وقت مسجد مبارک میں تشریف لے آئے منشی صاحب نے خط پڑھ کر سنایا تو حضور نے انہیں ارشاد فرمایا کہ آپ اسی وقت گورداسپور چلے جائیں۔چودھری صاحب سے ملیں اور شیخ علی احمد صاحب وکیل کو لے کر کل صبح بٹالہ پہنچ جائیں اسی وقت حضرت اقدس نے مرزا ایوب بیگ صاحب کو لاہور روانہ فرمایا کہ وہ شیخ رحمت اللہ صاحب اور ایک وکیل لے کر بٹالے پہنچ جائیں چنانچہ حضرت منشی صاحب میاں خیر الدین صاحب اور اپنے ملازم میاں عظیم کے ساتھ اسٹیشن چھینا کی طرف گورداسپور والی گاڑی میں سوار ہونے کے لئے روانہ ہوئے۔بارش کی وجہ سے کیچڑ زیادہ تھی اور ان کے پاؤں بہت پھسلتے تھے وہ بار بار گرتے اور پھر اٹھ کر چلتے۔خشیت کا اس وقت یہ عالم تھا کہ زار زار رو ر ہے تھے اور دعائیں کر رہے تھے۔سیکھواں پہنچ کر میاں امام الدین صاحب اور میاں جمال الدین صاحب کو ایک شخص کے ذریعہ سے پیغام بھیجوا کر خود اسی طرح آگے چل دیئے۔ایک میل کے فاصلہ پر یہ دونوں فدائی بھی انہیں مل گئے۔باہم مشورہ کر کے میاں امام الدین صاحب کو گھر کی حفاظت کے لئے واپس بھیج دیا اور میاں جمال الدین صاحب اس قافلہ کے ساتھ ہو لئے یہ چاروں اصحاب بمشکل گاڑی کے وقت اسٹیشن تک پہنچے اور شام