تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 623 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 623

تاریخ احمدیت جلدا مقدمه اقدام قتل اور بریت نے عبد الحمید کا تحریری بیان عدالت میں پیش کیا اور اپنی گواہی میں کہا کہ ” میری واقعیت مرزا صاحب سے اس مباحثہ کے وقت سے ہے جو ۱۸۹۳ء میں موسم گرما میں ہوا تھا میں نے اس مباحثہ میں بڑا بھاری حصہ لیا تھا۔یہ مباحثہ اس میں اور ایک بھاری عیسائی عبد اللہ آتھم کے مابین ہوا جو مرگیا ہے۔میں میر مجلس تھا اور دو موقعوں پر مسٹر آتھم کی جگہ بطور مباحث کے بیٹھا تھا۔مرزا صاحب کو بہت ہی رنج ہوا تھا اور اس کے بعد اس نے ان تمام کی موت کی پیشگوئی کی۔جنہوں نے اس مباحثہ میں حصہ لیا تھا اور میرا حصہ بہت ہی بھاری تھا۔اس وقت سے اس کا سلوک میرے ساتھ بہت ہی مخالفانہ رہا ہے اس مباحثہ کے بعد خاص دلچپسی کا مرکز مسٹر آتھم رہا۔چار مستقل کو ششیں اس کی جان لینے کے لئے کی گئیں۔اس کی موت مقرر کردہ میعاد کے آخری دوماہ میں خاص پولیس کا پہرہ دن رات فیروزپور میں رکھا گیا۔اسے امرت سر میں انبالے اور انبالے سے فیروز پور بھاگنا پڑا۔ان کوششوں کے باعث سے جو اس کی جان لینے کے لئے کی گئیں اور یہ کو ششیں عام طور پر مرزا صاحب سے منسوب کی گئی ہیں۔اس کی موت کے بعد میں ہی پیش نظر رہا ہوں اور کئی ایک مبہم طریقوں سے یہ پیشگوئی مرزا صاحب کی تصنیفات میں مجھے یاد دلائی گئی ہے جس کے لئے سب سے بڑی وہ کوشش تھی جس کو عبد الحمید نے بیان کیا ہے۔لاہور میں لیکھرام کی موت کے بعد جس کو تمام لوگ مرزا صاحب کی طرف منسوب کرتے ہیں۔میرے پاس اس بات کے یقین کرنے کے لئے خاص وجہ تھی۔کہ میری جان لینے کی کوئی نہ کوئی کوشش کی جائیگی میں تین ماہ کے لئے رخصت پر گیا ہوا تھا۔میری واپسی پر میرا آنا مرزا صاحب کو فورا معلوم ہو گیا اور عبدالحمید میرے پاس پہنچ گیا۔عبد الحمید کے بیان پر یقین کرنے کے لئے میرے پاس کافی وجوہ ہیں اور نیز اس بات کا یقین کرنے کے لئے کہ مرزا صاحب مجھے نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتے ہیں مرزا صاحب کا یہ ہمیشہ کا طریقہ رہا ہے کہ وہ اپنے مخالفوں کی موت کی پیشگوئی کرتے ہیں"۔مقدمه چونکه نهایت سنگین اور اپنے ہم مذہب پادری کی طرف سے تھا۔اس لئے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرت سرنے بیان سنتے ہی دفعہ ۱۱۴ ضابطہ فوجداری کے تحت حضرت اقدس مسیح موعود کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیئے۔اور اس کے ساتھ چالیس ہزار روپیہ کی ضمانت کا حکم اور میں ہزار کا مچلکہ بھی تھا۔یہ عدالتی کارروائی ختم ہوئی تو پادریوں نے واپس آکر عبد الحمید کو ایک کو ٹھی میں بند کر دیا۔اور اگلے بیان کی تیاری کے لئے زور شور سے کوششیں شروع کر دیں۔اور اپنے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی خدمات بھی حاصل کرلیں۔اور انہیں یقین ہو گیا کہ وہ اپنے دشمن کو اقدام قتل کی سزا دلوانے میں بہر حال کامیاب ہو جائیں گے۔یہاں امرت سر میں تو سازشوں کے جال بچھا دیئے گئے اور معاملہ حضرت اقدس کے خلاف وارنٹ