تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 541 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 541

تاریخ احمدیت جلدا تین عظیم الشان علمی - مشافات اس موقعہ پر نواب محسن الملک سید مهدی علی خاں - a نواب محسن الملک کا مکتوب (۱۹۰۷-۱۸۳۷ء) نے حضور کی اسلامی خدمات سراہتے ہوئے ۲- اکتوبر ۱۸۹۵ء کو سمیٹی سے مندرجہ ذیل مکتوب لکھا۔" جناب مولانا و محدو منار امت بر کاتم ابعد سلام مسنون عرض یہ ہے کہ آپ کا چھپا ہوا خط مع مسودہ درخواست کے پہنچا۔میں نے اسے غور سے پڑھا اور اس کے تمام مالہ و ما علیہ پر خیال کیا۔در حقیقت دینی مباحثات و مناظرات (میں) جو دل ممکن اور جیسی درد انگیز باتیں لکھی اور کی جاتی ہیں وہ دل کو نہایت بے چین کرتی ہیں۔اور اسے ہر شخص کو جسے ذرا بھی اسلام کا خیال ہو گا۔روحانی تکلیف پہنچتی ہے۔خدا آپ کو اجر دے کہ آپ نے دلی جوش سے مسلمانوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہا ہے۔یہ کام بھی آپ کا منجملہ اور بہت سے کاموں کے ہے۔جو آپ مسلمانوں کے بلکہ اسلام کے لئے کرتے ہیں۔یہ تجویز جو آپ فرماتے ہیں گورنمنٹ سے منظور ہو جاوے تو اس میں شبہ نہیں کہ وہ ملک بیماری جو رہا کی طرح پھیل رہی ہے اور جس سے ایک نے ہی آدمی کو بہت تکلیف پہنچتی ہے جاتی رہے۔لیکن بلحاظ اصول سیاست گورنمنٹ کے مجھے امید نہیں کہ گورنمنٹ ایسا قانون جاری کرنا پسند کرے۔اور ان دو شرطوں کو جن کا آپ نے مشروط ہونا تجویز فرمایا ہے۔برٹش گورنمنٹ قانون کے پیرایہ میں ظاہر کر سکے۔یہ صرف میری ہی رائے نہیں ہے۔بلکہ ہر شخص جس کو گورنمنٹ کے قانون بنانے کے اصول سے واقفیت ہے یہی خیال رکھتا ہے۔اور جب کہ گورنمنٹ سے اس کی منظوری کی امید نہیں ہے۔تو درخواست سے کیا فائدہ۔اگر یہ خیال نہ ہو تا تو میں حضرت کے بھیجے ہوئے کاغذ پر دستخط کر کے نور اواپس کرتا۔مجھے امید ہے کہ اس معاملہ میں جو کچھ آپ کا خیال ہو گا اس سے وقتا فوقتا آپ مجھے مطلع فرمائیں گے۔آپ یقین رکھیے کہ میں ایسے کاموں میں جن سے اسلام پر جو حملے ہوتے ہیں وہ رد کے جائیں اور مسلمان کو جو تکلیف پہنچائی جاتی ہے اس میں تخفیف ہو دل و جان سے مدد کرنے کے لئے موجود ہوں۔فقط زیادہ نیاز و بس - آپ کا خادم محسن الملک " - A مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی غیر اسلامی روش مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی تنہا وہ انسان تھے جنہوں نے مخالفت کا برملا اور تحریری اظہار کیا اور بجائے تائید کرنے یا کم از کم خاموش رہنے کے "دجال کا دیانی کی نئی چال" کے عنوان سے ایک ٹریکٹ شائع کر ڈالا۔جس میں یہ مخالفانہ پراپیگنڈا کیا۔کہ کاریانی کا مقصود اس تجویز سے مسلمانوں کو اپنی خیر خواہی جتانا اور اس ذریعہ سے ان کا مال مارتا ہے۔اور اس تجویز کا اس کے ہاتھ سے انجام پذیر ہونا در وجہ سے ناممکن ہے۔اول یہ کہ وہ خود اس جرم کا