تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 540 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 540

تاریخ احمدیت۔جلدا ۵۳۹ تین عظیم الشان علمی انکشافات ہے مگر یاد رہے کہ کسی قرآنی آیت کے معنے ہمارے نزدیک وہی معتبر اور صحیح ہیں جن پر قرآن کے دوسرے مقامات بھی شہادت دیتے ہوں۔کیونکہ قرآن کی بعض آیات بعض کی تفسیر ہیں اور نیز قرآن کے کامل اور یقینی معنوں کے لئے اگر وہ یقینی مرتبہ قرآن کے دوسرے مقامات سے میسر نہ آسکے یہ بھی شرط ہے کہ کوئی حدیث صحیح مرفوع متصل بھی اس کی مفسر ہو۔غرض ہمارے مذہب میں تفسیر بالرائے ہرگز جائز نہیں۔پس ہر ایک معترض پر لازم ہو گا۔کہ کسی اعتراض کے وقت اس طریق سے باہر نہ جائے۔دوم : دوسری کتابوں میں جو ہماری مسلم کتابیں ہیں اول درجہ صحیح بخاری ہے جسکی وہ تمام احادیث ہمارے لئے قابل حجت ہیں جو قرآن شریف سے مخالف نہیں اور انہیں میں سے دوسری کتاب صحیح مسلم ہے اور اس کو ہم اس شرط سے مانتے ہیں۔کہ قرآن اور صحیح بخاری سے مخالف نہ ہو۔اور تیسرے درجہ پر صحیح ترندی - ابن ماجہ - موطا- نسائی - ابو داؤد دار قطنی کتب حدیث ہیں جن کی حدیثوں کو ہم اس شرط سے مانتے ہیں کہ قرآن اور صحیحین سے مخالف نہ ہوں۔یہ کتابیں ہمارے دین کی کتابیں ہیں۔اور یہ شرائط ہیں جن کی رو سے ہمارا عمل ہے۔اب ہم قانونی طور پر آپ لوگوں کو ایسے اعتراضوں سے روکتے ہیں۔جو خود آپ کی کتابوں اور آپ کے مذہب پر وارد ہوتے ہیں۔۔۔اور اگر آپ لوگ اب بھی یعنی اس نوٹس کے جاری ہونے کے بعد بھی اپنی خیانت پیشہ طبیعت اور عادت سے باز نہیں آئیں گے تو دیکھو ہم آپ کو ہلا ہلا کر متنبہ کرتے ہیں کہ اب یہ حرکت آپ کی صحت نیت کے خلاف سمجھی جائے گی اور محض دلازاری اور توہین کی مد میں متصور ہوگی اور اس صورت میں ہمیں استحقاق ہو گا کہ عدالت سے اس انتراء اور توہین اور دلازاری کی چارہ جوئی کریں۔بر صغیر ہند و پاکستان موجودہ زمانے میں بھی مذاہب عالم کی جولان گاہ ہے مگر اس زمانے میں تو خاص طور پر یہاں ایک زبر دست رسہ کشی جاری تھی جس میں اسلام کی مخالف سبھی طاقتیں متحد تھیں اور مسلمان بالکل بے دست وپا تھے۔اور کسی ایسی آواز کے منتظر تھے جو انہیں ناموس مصطفیٰ اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لئے متحد کر دے۔چنانچہ جو نبی حضرت اقدس کی طرف سے یہ آئینی تحریک شروع ہوئی۔ہندوستان کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک بسنے والے ہر خیال کے مسلمانوں نے آپ کی پر زور تائید کی اور مختصر وقت میں بڑی گرمجوشی سے درخواست پر ہزاروں دستخط ہو گئے۔دستخط کرنے والوں میں ملک کے نامی گرامی علماء سرکاری افسر وکلاء، تجار وغیرہ ہر طبقہ کے لوگ شامل تھے۔برطانوی ہند کی تاریخ میں یہ پہلا موقعہ تھا۔جب کہ مسلمان اختلاف مسلک کے باوجود ایک قومی مسئلہ پر مجتمع ہوئے اور اتحاد کا انتہائی خوشکن نظارہ دیکھنے میں آیا۔