تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 542 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 542

تاریخ احمدیت جلد ! ۵۴۱ تین عظیم الشان علمی انکشافات مرتکب ہے جس کو اس درخواست سے ہٹانا چاہتا ہے۔دوم یہ کہ اس کی لائٹی (وفاداری) مشتبہ ہے۔کوئی مسلمان وفادار گورنمنٹ یہ کام کرے تو یہ انجام پذیر ہو سکتا ہے۔EI نیز لکھا کہ یہ کام فقط مجھ ہی سے کامیاب طریق پر انجام پذیر ہو گا۔کسی دوسرے سے نہیں۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا یہ بیان حضرت اقدس کی خدمت میں ۲۱ - اکتوبر ۱۸۹۵ء کو پہنچا۔حضور کے پیش نظر تو اپنے آقا و موئی نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس کا کام تھا۔کوئی کریڈٹ لینا مقصود نہیں تھا۔چنانچہ آپ نے اسی دن اشتہار شائع کرتے ہوئے اعلان کر دیا۔کہ میں یہ مقدس ذمہ داری مولوی صاحب موصوف کو سونپتا ہوں۔یہ اعلان اس وقت کیا گیا تھا۔جب کہ یہ تحریک پنجاب اور ہندوستان کے کونے کونے میں پورے زور شور سے جاری تھی اور اس پر دستخط کر کے بھجوانے والوں کی تعد اردو ہزار پچھتر تک پہنچ چکی تھی۔اور ابھی بہت سے شہروں سے اطلاعات آنا باقی تھیں اور اس کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔مگر افسوس مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے جنہیں یہ اہم دینی خدمت سپرد کی گئی تھی اس تحریک سے کھلی غداری کی اور ایک اہم کام کھٹائی میں پڑ گیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ ملک کی فضا بد سے بد تر صورت اختیار کر گئی اور معاندین اسلام پہلے سے بھی زیادہ بے باکی کا مظاہرہ کرنے لگے۔چنانچہ ۱۸۹۷ء میں ایک متعصب عیسائی احمد شاہ شائق نے " امہات المومنین " جیسی اشتعال انگیز کتاب لکھ کر مسلمانوں میں آگ لگادی۔حضرت اقدس نے یہ صورت دیکھ کر حکومت کو پھر توجہ دلائی کہ وہ مذہبی مباحثات کی اصلاح کے لئے قانون کی توسیع کرے بلکہ ہنگامی حالات کے پیش نظر یہ بھی تجویز پیش فرمائی کہ وقتی طور پر یہ قانون بنا دیا جائے کہ کوئی فریق کسی دوسرے فریق پر حمدہ کرنے کا مجاز نہیں اسے محض اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرنے کی اجازت ہے۔لیکن حکومت اب بھی اس طرف متوجہ نہ ہوئی۔اور اصلاح احوال کے لئے اس نے کوئی قدم نہ اٹھایا۔جس کا خمیازہ مسلمانوں کو آگے چل کر کتاب ”رنگیلا رسول اور رسالہ ” در تمان" کی شکل میں بھگتنا پڑا۔اور فرقہ وارانہ کشیدگی خطرناک شکل اختیار کر گئی۔۱۸۹۵ء کے بعض صحابہ ۱۸۹۵ء کے واقعات بیان ہو چکے ہیں۔اب آخر میں بعض خاص بزرگوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے جو اس سال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت سے مشرف ہوئے۔(۱) حضرت صوفی غلام محمد صاحب بی۔اے مبلغ ماریشس - MA