تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 539 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 539

تاریخ احمدیت۔جلدا ۵۳۸ تین عظیم الشان علمی انکشافات مجد داعظم جلد اول صفحہ ۴۴۱ میں آریہ دھرم " کے حالات کے سلسلہ میں لکھا ہے کہ حضرت اقدس نے ایک اشتہار کے ذریعہ سے گورنمنٹ کو توجہ دلائی کہ "اگر گورنمنٹ کسی اور طریق سے اپنے گورہ سپاہیوں کی اخلاقی حالت درست نہیں رکھ سکتی اور انہیں زنا سے روک نہیں سکتی تو پھر چاہیے کہ ولایت سے یورپین کسیاں لا کر چھاؤنیوں میں رکھے۔ہماری دیسی عورتوں کو گوروں کی شہوت رانیوں کے لئے استعمال نہ کیا جائے"۔یہ امر غلط فہمی پر مبنی ہے۔حق یہ ہے کہ حضرت اقدس نے خود ایسا کوئی اشتہار کبھی شائع نہیں فرمایا۔اور حضور نے کتاب " آریہ دھرم " کے آخری صفحات میں "قانون دکھائی" کے عنوان سے جو مضمون درج فرمایا ہے وہ حضور کا نہیں بلکہ " اخبار عام " (۹- نومبر ۱۸۹۵ء) کا اقتباس ہے۔ناموس مصطفوی کے دفاع اور مذہبی مباحثات کے لئے آئینی تحریک اور مسلمانان ہند کی طرف سے پر زور تائید حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس ذات پر ملک میں چاروں طرف جو حملے ہو رہے تھے حضرت مسیح موعود ان کے دفاع کے لئے اب تک پوری قوت سے علمی جنگ لڑ رہے تھے اور ملک میں جہاں بھی کوئی شخص سید المعصومین امام المتقین حضرت محمد مصطفی احمد مجتبی ﷺ کے خلاف بد زبانی کرتا آپ کا قلم نور احرکت میں آجاتا۔لیکن ۱۸۹۵ء کے آخر میں آپ کے اس دفاع نے ایک نئی شکل اختیار کرلی۔یعنی آپ نے مذہبی مناظرات کی اصلاح کے لئے وائسرائے ہند سے درخواست کرتے ہوئے (۲۲۔ستمبر ۱۸۹۵ء کو بذریعہ اشتہار ) یہ آئینی تحریک اٹھائی کہ حکومت تعزیرات ہند کی دفعہ ۲۹۸ میں توسیع کرتے ہوئے یہ قانون پاس کرے کہ آئندہ مذہبی مباحثات میں ہر فرقہ پابند ہو گا کہ۔(اول): وہ ایسا اعتراض کسی دوسرے فرقہ پر نہ کرے جو خود اس کی الہامی کتاب یا پیشوا پر دارد ہوتا ہو۔T (دوم) : دوسرے فرقہ کی صرف انہی کتابوں پر اعتراض کرے جو اس کے نزدیک مسلم ہوں۔مخالفین اسلام کے نام کھلا نوٹس اس تحریک کے ساتھ ہی آپ نے مخالفین اسلام کو بھی نوٹس دیا کہ ہماری معتبر کتابوں میں اول قرآن شریف