تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 538 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 538

تاریخ احمدیت۔جلد ۵۳۷ تین عظیم الشان علمی انکشافات طرف دوڑے۔مگر وہ ایک ناقابل تردید حقیقت کا جواب کیا لکھتا۔ناچار اس نے اپنی بے بسی کا ثبوت دیتے ہوئے جواب " کے لئے اولین شرط یہ لگائی کہ پہلے چولہ صاحب کو نذر آتش کر دیا جائے۔چنانچہ پنڈت لیکھرام کی سوانح میں لکھا ہے کہ (پنڈت لیکھرام) نے ذکر از کار کرتے ہوئے کہا کہ مرزا قادیانی نے اس چولہ کی جو گر د نا تک مکہ سے ہمراہ لائے تھے کچھ روپے مہنت کو دے کر اس پر عربی آیات وغیرہ کی نقل کرلی ہے۔اب مرزا صاحب گورو نانک جی کو مسلمان قرار دے رہے ہیں۔معزز سکھوں نے کہا تھا کہ آپ اس کا جواب تحریر کریں تو میں نے ان سے یہ شرط پیش کی تھی کہ آپ مہنت مذکور سے چولہ لے کر میرے حوالہ کریں۔میں جلسہ کر کے رو بروئے عام لوگوں کے اس کو ماچس لگا کر جلاؤوں گا۔بعد اس کے جواب لکھوں گا۔انہوں نے منت سے چولہ لینے کی معذوری ظاہر کی۔اور میں نے خاموشی اختیار کی "۔سکھ اصحاب پنڈت لیکھرام سے مایوس ہو گئے تو انہوں نے چولہ صاحب سے متعلق نئی نئی روایات اختراع کرنا شروع کر دیں۔اور پھر لاجواب ہو کر جنم ساکھی کے نئے ایڈیشن میں جو سمت ۴۲۸ نانک شاہی میں شائع ہوا چولہ صاحب سے متعلق لکھ دیا۔کہ " وہ چولہ آسمان پر اڑ گیا۔پھر کبھی نہ آیا۔اس کھلی تحریف کے علاوہ ۱۸۹۶ ء یعنی اگلے سال جو جنم ساکھی شائع ہوئی اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیش کردہ متعدد اقتباسات کو اپنے مطلب کے مطابق تبدیل کر دیا گیا۔تحریف کا یہ دروازہ کھلنا ہی تھا کہ چند برسوں کے اندر اندر سکھ لٹریچر کا ایسا حلیہ بگڑا کہ سکھ دروان پکار اٹھے کہ روزانہ نئی نئی بنادیں بنا کر سکھ تاریخ میں ناخوشگوار اور عجیب و غریب تبدیلیاں کی جارہی ہیں سکھ تاریخ کو حسب پسند سانچا میں (جس کا سچائی سے بالکل کوئی واسطہ ہی نہیں) ڈھالا جا رہا ہے "۔اس زرق تحریف کا نتیجہ بالا خریہ رونما ہوا کہ بعض سکھ اصحاب نے سرے سے جنم ساکھی بھائی بالا ہی کو جو سکھ مذہب میں قدیم سے مستند اور مقدس کتاب تعلیم کی جاتی تھی۔فرضی اور جعلی قرار دے دیا۔جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام کی بے مثال فتح تھی۔۱۳۵۔آریہ دھرم " کی تصنیف و اشاعت حضرت اقدس مسیح موعود نے "ست بچن " کے ساتھ ایک ہی جلد میں ایک کتاب " آریہ دھرم " بھی شائع فرمائی۔اس کی وجہ تصنیف یہ ہوئی کہ قادیان کے آریہ سماجیوں نے پادری فتح مسیح کی طرح اسلام اور رسول خدا ﷺ پر نہایت گندے الزامات لگائے اور انہیں ایک اشتہار کی شکل میں شائع کیا جس کے جواب میں حضرت اقدس نے قلم اٹھایا۔اور ان کے مذہب کی قلعی کھولنے کے علاوہ اسلامی نظام اخلاق و تمدن کی فضیلت روز روشن کی طرح ثابت کر دکھائی۔