تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 532
تاریخ احمدیت جلدا ۵۳۱ تین عظیم الشان علمی انکشافات نور القرآن حصہ اول و دوم کی تصنیف و اشاعت ر "نور القرآن" کا پہلا حصہ -۱۵ جون ۱۸۹۵ء کو اور دوسرا حصہ ۲۰- دسمبر ۱۸۹۵ء کو شائع ہوا۔یہ تالیف عیسائیت کے خلاف ایک علمی اسلحہ خانہ ہے اور قرآن مجید کی سچائی کے لئے ایک روشن مینار - " نور القرآن حصہ اول میں حضور نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ضرورت زمانہ کی شہادت پیش کرتے ہوئے انتہائی خوبی اور جامعیت سے ثابت کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسے وقت میں دنیا میں بھیجے گئے جب دنیا زبان حال سے ایک عظیم الشان مصلح کا تقاضا کرتی تھی اس دعوئی کے ثبوت میں حضور نے نہ صرف چھٹی صدی عیسوی کی مسیحی دنیا کی اخلاقی اور عملی حالت کا نقشہ فنڈل ، ڈیون پورٹ ، پادری باس در تھ ، پادری بٹلر اور جاہلیت کے عیسائی شاعر اخلل کے قلم سے بلکہ اس برطانوی حکومت کے پایہ تخت لنڈن کے موجودہ اخلاقی ماحول کے متعلق بھی کوئی لگی لپٹی بات نہیں رہنے دی۔نور القرآن حصہ دوم پادری بی سی نے شیر گڑھ ضلع گورداسپور سے حضرت اقدس کو دو فتح مسیح خط لکھے جن میں اس بد باطن نے رسول کائنات حضرت محمد مصطفیٰ کو گالیاں دیتے ہوئے امام الطیبین و سید المعصومین پر معاذ اللہ زنا تک کی شرمناک تهمت سیدا لگائی۔ان دشنام آلود خطوط کے جواب میں حضور نے "نور القرآن" (حصہ دوم) لکھا پادری لوگ چونکہ ایک عرصہ سے رسول خدا ﷺ کی ناموس و حرمت پر بے دریغ حملے کر رہے تھے اس لئے حضرت مسیح موعود نے بالخصوص نور القرآن حصہ دوم کی تالیف سے ان کی گستاخیوں اور بد زبانیوں کی روک تھام کرنے کے لئے الزامی رنگ کے جوابات کی ضرورت محسوس کی اور انجیل کے بیان کردہ ” یسوع مسیح کانوٹو پیش کرنا شروع کر دیا۔علم کلام کا یہی الزامی طریق تھا۔جسے حضرت اقدس نے اپنے آقا کی تو ہین کو برداشت نہ کرتے ہوئے اپنے لٹریچر میں جابجا استعمال فرمایا۔پادری فتح مسیح نے اپنے خط میں یہ بھی لکھا تھا کہ اگر آج ایسا شخص جیسے آنحضرت ا تھے گورنمنٹ انگریزی کے زمانہ میں ہو تا تو گورنمنٹ اس سے کیا سلوک کرتی ؟ حضرت اقدس نے اس سوال کا جو پر شوکت جواب دیا۔وہ تاریخ میں ہمیشہ آب زر سے لکھا جائے گا۔حضور نے لکھا۔"اگر وہ سید الکونین اس گورنمنٹ کے زمانہ میں ہوتے تو یہ سعادت مند گورنمنٹ ان کی کفش برداری اپنا فخر سمجھتی جیسا کہ قیصر روم صرف تصویر دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا تھا"۔