تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 531 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 531

تاریخ احمدیت۔جلدا ۵۳۰ تین عظیم الشان علمی انکشافات ان لوگوں کے نزدیک (حضرت) یسوع مسیح صلیب سے زندہ اتر آئے تھے اور اپنے حواریوں کی مدد سے پوشیدہ طور پر ہندوستان کی طرف ہجرت کر گئے۔ان دنوں آپ جو ان ہی تھے۔آپ کشمیر میں ہی آباد ہو گئے جہاں انہیں یوز آصف کے نام سے ایک قدیم بزرگ شخصیت کے طور پر نہایت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ انہیں (حضرت) یسوع مسیح کی مفروضہ زندگی کے اسی دور میں ان کا پیغام پہنچا تھا۔مسلم محققین کا اعتراف حق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس انکشاف کی تائید میں اب خصوصاً ممالک عربیہ سے پر زور آواز اٹھنے لگی ہے۔چنانچہ عرصہ ہوا مصر کی مشہور علمی شخصیت اور مفتی مصر محمد عبدہ کے خاص شاگرد علامہ رشید رضا (۱۸۲۵ - ۱۹۳۵ء) مدیر المنار نے لکھا کہ "فَفِرَارَهُ إِلَى الْهِنْدِ وَ مَوتُهُ فِي ذَالِكَ الْبَلَدِ لَيْسَ بعيد عقلا ونقلا - 2 حضرت مسیح علیہ السلام کا ہندوستان میں ہجرت کر کے (شہر سرینگر) میں وفات پانا عقل و نقل سے بعید نہیں ہے۔مصر کے ایک نامور عالم ادیب محمود عباس عقاد نے اپنی کتاب ”حیات المسيح وكشوف العصر الحدیث میں قبر مسیح کے متعلق یہ رائے قائم کی ہے کہ یہ انکشاف ہرگز نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ایک اور عالم ڈاکٹر احمد زکی ابو شادی نے چند سال ہوئے ارجنٹائن کے کثیر الاشاعت ماہوار عربی رسالہ "المواہب " (ماہ مارچ ۱۹۵۵ء) میں ایک تحقیقی مقالہ لکھا جس میں واضح رنگ میں اعتراف کیا کہ " اسلام کے نزیک خدا تعالیٰ کی ہستی ہر جگہ موجود ہے وہ آسمان و زمین کا نور ہے لہزار فع الی اللہ کی عبارت ہر گز کوئی مادی معنی نہیں رکھتی۔جیسا کہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ مسیح علیہ السلام اٹھائے گئے بلکہ رفع کے معنے اپنی حفاظت میں لینے کے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مسیح علیہ السلام کو دشمنوں کے شر سے نجات دی۔آپ کے شاگردوں نے رات کے وقت آپ کو لحد سے نکال لیا اور آپ کا خفیہ طور پر علاج کیا گیا۔جب آپ صحت یاب ہو گئے تو مشرقی ممالک کے سفر پر روانہ ہوئے۔جہاں بلند ترین انسانی اغراض و مقاصد کی تبلیغ کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات آسمان پر tt دے دی۔(ترجمہ) ۲۴ عرصہ ہو ا غزہ فلسطین کے بہت بڑے عالم الشیخ عبداللہ التشادی نے ڈنمارک کے پادری الفریڈ نیلسن سے اس موضوع پر تحریری مباحثہ کیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب سے زندہ اتارے گئے اور اپنی طبعی موت سے فوت ہوئے یہ مباحثہ فریقین کے اخراجات سے ۱۹۳۹ء میں شائع کر دیا گیا۔۲۵