تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 533 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 533

تاریخ احمدیت جلد ۵۳۲ تین عظیم الشان علمی انکشافات بابا نانک رحمتہ اللہ علیہ کے مسلمان ہونے کا انکشاف سفر ڈیرہ نانک "ست بچن " اور "آریہ دھرم کی تصنیف و اشاعت حضرت اقدس علیہ السلام نے اس سال تیسرا انکشاف یہ فرمایا کہ بابا نانک جو سکھ مذہب کے پہلے گورو تسلیم کئے جاتے ہیں ایک مسلمان ولی اور بزرگ انسان تھے۔خدا کی طرف سے کشف اس عظیم الشان انکشاف کی بنیاد در اصل ایک کشف پر تھی۔جو حضور نے قریباً ۱۸۷۸ء میں دیکھا تھا۔اس کشف میں آپ نے حضرت بابا نانک کو ایک مسلمان کی شکل میں دیکھا اور آپ کو بتایا گیا کہ بابا بانگ نے بھی آپ کی طرح اسلام ہی کے چشمہ صافی سے پانی پیا ہے۔حضرت اقدس نے یہ کشف اسی وقت متعدد ہندوؤں کو سنا دیا۔حضور کو یقین تھا کہ اس کشف کی واقعات سے بہر حال تصدیق ہو جائے گی۔چنانچہ ایک مدت کے بعد یکا یک حق سے اس کا سامان پیدا ہو گیا۔یعنی حضرت اقدس کو معلوم ہوا کہ ڈیرہ بابا نانک ضلع گورداسپور کے گور دروارہ میں بابا نانک صاحب کا ایک چولہ ایک مقدس یادگار کے طور پر محفوظ ہے۔جس کے متعلق سکھ اصحاب اپنی مذہبی روایات کی بناء پر بالاتفاق تسلیم کرتے ہیں کہ یہ چولہ صاحب آسمان سے بابا صاحب کے لئے اترا تھا اور قدرت کے ہاتھ سے تیار ہوا تھا اور قدرت کے ہاتھ ہی سے بابا صاحب کو پہنایا گیا تھا۔حضرت اقدس کو جب یہ بات پہنچی آپ نے مفصل تحقیقات کے لئے اپنے چار خدام یعنی مرزا یعقوب بیگ کلانوری - منشی تاج الدین صاحب اکو شنٹ دفتر ریلوے لاہور خواجہ کمال الدین صاحب بی۔اے اور میاں عبدالرحمن صاحب لاہوری کو ڈیرہ ٹانک بھیجا۔جنہوں نے ڈیرہ ٹانک میں اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ سچ سچ وہاں کابلی مل کی اولاد کی تحویل میں ایک چولہ موجود ہے جس پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا ہے اور ایسا ہی کئی اور آیات بھی۔وفد نے واپس آکر حضرت اقدس کی خدمت میں اپنی مفصل رپورٹ پیش کی۔حضور نے رپورٹ پر اکتفاء نہ کرتے ہوئے اسے بچشم خود ملاحظہ کرنے کا فیصلہ کر لیا تاکہ تحقیق سماعی نہ رہے۔بلکہ عینی شہادت کا رنگ پکڑ لے۔چنانچہ حضرت اقدس استخارہ مسنونہ کے بعد ۳۰ - ستمبر ۱۸۹۵ء بروز پیر صبح سویرے بٹالہ کی طرف روانہ ہوئے اس سفر میں حضور کے ساتھ آپ کے یہ دس خدام تھے (1) حضرت مولانا حکیم نور الدین صاحب (۲) حضرت مولانا عبد الکریم صاحب سیالکوٹی (۳) مولانا سید محمد احسن صاحب امرد ہوی (۲) شیخ رحمت اللہ صاحب گجراتی (۵) منشی غلام قادر صاحب فصیح سیالکوٹی (۶) حضرت مرزا ایوب بیگ صاحب کلانوری (۷) حضرت شیخ