تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 504
تاریخ احمدیت جلدا ۵۰۳ مرکز اسلام میں حضرت مسیح موعود کی آمد کے تذکرے اتمام الحجہ کی تصنیف و اشاعت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رسالہ " اتمام الحجہ " جون ۱۸۹۴ ء میں شائع کیا یہ رسالہ امرتسر کے مشہور مخالف مولوی غلام رسول عرف مولوی رسل بابا صاحب کی کتاب "حیات المسیح" کے جواب میں تصنیف ہوا تھا۔حضور نے اتمام الحجہ " میں قرآن، حدیث اور سلف صالحین کے اقوال غرض ہر جہت سے مسیح کی وفات پر مختصر مگر جامع بحث کی ہے یہ رسالہ روسائے امرتسر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی رسل بابا صاحب کو رجسٹری کر کے بھجوا دیا گیا لیکن مولوی رسل بابا صاحب نے جتنے زور شور سے علمی جنگ کا اعلان کیا تھا اتنی ہی بے دلی سے ہتھیار ڈال دیئے۔مولوی رسل بابا صاحب کے معقدوں میں کئی کشمیری ارباب اثر تھے جنہوں نے مولوی صاحب پر چیلنج قبول کرنے کے لئے دباؤ بھی ڈالا مگر وہ مختلف حیلوں بہانوں سے پہلو بچا گئے۔اس پر ان میں سے بعض نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کرلی۔مولوی رسل بابا صاحب نے جو یہ ذلت و رسوائی دیکھی تو انہوں نے امرت سر کے احمدیوں کے خلاف مخالفت کی آگ اور زیادہ تیز کردی- مگر مولوی رسل بابا صاحب بھی خدا تعالٰی کی گرفت سے نہ بچ سکے۔اور بالا خر ۸- دسمبر ۱۹۰۲ء کو طاعون کا شکار ہو کر کوچ کر گئے۔وسر الخلافہ" کی تصنیف و اشاعت سر الخلافہ بھی حضرت اقدس کی ایک عربی تصنیف ہے جو جولائی ۱۸۹۴ء میں شائع ہوئی۔اس بلند پایہ کتاب میں آپ نے حکم و عدل کے فرائض انجام دیتے ہوئے مسئلہ خلافت پر فیصلہ کن رنگ میں روشنی ڈالی۔حقیقت یہ ہے کہ سر الخلافہ خلافت کے موضوع پر اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک بے نظیر تصنیف ہے جس کی مثال اسلام کے چودہ سو سال کے لٹریچر میں تلاش کرنا بے سود ہے۔سر الخلافہ کے ذریعہ سے ایک ہی رات میں انقلاب عظیم اس قابل قدر کتاب سے سنی اور شیعہ علماء نے کیا تاثر لیا اس کا تو علم نہیں البتہ اس نے شیعہ مذہب کے مشہور عالم ، زبان فارسی کے فقید المثال شاعر اور ارجح المطالب فی مناقب اسد اللہ الغالب" کے نامور متولف مولانا عبید اللہ صاحب بل پر بجلی کی طرح اثر کیا اور ان کے خیالات کی دنیا ایک ہی دن میں یکسر بدل ڈالی۔اور انہیں