تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 503 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 503

تاریخ احمدیت جلدا ۵۰۲ مرکز اسلام میں حضرت مسیح موعود کی آمد کے تذکرے مسیح کہ یہ گرہن ہم نے تو دیکھ لیا مگر یہ ایسا خفیف ہے کہ عوام کی نظر سے اوجھل رہ جائیگا اور اس طرح ایک عظیم الشان پیشگوئی کا نشان مشتبہ ہو جائیگا۔تھوڑی دیر بعد سیاہی بڑھنی شروع ہوئی حتیٰ کہ آفتاب کا زیادہ حصہ تاریک ہو گیا۔اس موقع پر حضرت مولانا سید محمد احسن صاحب امرد ہوی کے قلم سے اشتہار جلاء البصر فى انحسانف الشمس و القمر " شائع ہوا۔جس میں اس عظیم آسمانی نشان کے ظہور پر خوب روشنی ڈالی گئی تھی۔یہ اشتہار امرتسر کے ریاض مند پریس میں چھپا تھا نماز کسوف بھی حضرت مولوی صاحب نے پڑھائی جو مسجد مبارک، قریباً تین گھنٹہ جاری رہی۔جب خسوف و کسوف کا نشان ظاہر ہوا تو بالخصوص اہل مکہ خوشی سے اچھلنے لگے کہ اب اسلام کی ترقی کا وقت آگیا اور امام مہدی پیدا ہو گئے۔علاوہ ازیں تمام اسلامی ممالک میں بھی بڑی خوشیاں منائی گئیں۔"نور الحق" (حصہ دوم) کی تصنیف و اشاعت اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو چاند اور سورج گرہن کا نشان ہدایت و رہنمائی کے لئے ظاہر ہوا تھا۔مگر محرومان ازلی نے اس کو گرا ہی کا ایک ذریعہ بنالیا۔چنانچہ ایک مولوی صاحب نے جب گرہن دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی پر خوش ہونے کی بجائے مغموم ہو کر کہنے لگے کہ اب دنیا گمراہ ہوگی۔اور لوگ مرزا صاحب کو مہدی تسلیم کرلیں گے۔دوسرے نام نہاد علماء نے بھی عملا اسی ذہنیت کا مظاہرہ کیا اور یہ اعتراض اٹھایا کہ یہ گرہن حدیث کی بتائی ہوئی تاریخوں میں نہیں ہوا۔اسے چاند کی پہلی تاریخ کو ہونا چاہیے تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان حضرات کی یہ افسوس ناک روش دیکھی تو آپ نے مئی ۱۸۹۳ء کو نور الحق حصہ دوم کتاب لکھ کر ان حضرات کے اس اعتراض کا یہ مسکت جواب دیا کہ حدیث میں قمر کا لفظ ہے جو پہلی رات کے چاند پر اطلاق نہیں پاتا۔پہلی رات کا چاند تو عربی میں ہلال کہلاتا ہے۔حضور نے اس کتاب میں تحدی فرمائی کہ خدا تعالیٰ نے یہ نشان تنها میری صداقت کے لئے ظاہر کیا ہے۔ورنہ تاریخ عالم سے کوئی ایک ہی ایسی مثال پیش کرو کہ کسی شخص نے خدا کی طرف سے ہونے کا دعویٰ کیا ہو اور پھر اس کے زمانہ میں رمضان کی ان معین تاریخوں میں خسوف و کسوف کا نشان ظاہر ہوا ہو۔اگر ایسی مثال پیش کر سکو تو میں ایک ہزار روپیہ انعام دوں گا۔مگر کوئی شخص ایسی نظیر پیش نہ کر سکا۔