تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 505
تاریخ احمدیت۔جلدا ۵۰۴۰ مرکز اسلام میں حضرت مسیح موعود کی آمد کے تذکرے IA سر الخلافہ پڑھتے ہوئے رات کو سید نا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی زیارت ہوئی۔اور دیکھا کہ سید الشہداء ایک بلند مقام پر رونق افروز ہیں اور فرما رہے ہیں کہ مرزا صاحب کو خبر کرو کہ میں آگیا ہوں چنانچہ مولانا بسمل دوسرے ہی دن حاضر کر حضرت اقدس کی بیعت سے مشرف ہو گئے۔رجوع الی الحق کے باعث آتھم صاحب کو مہلت اور اخفائے حق کی پاداش میں ہلاکت انوار الا سلام " اور " ضیاء الحق" کی تصنیف و اشاعت علماء کی قبل از وقت غوغا آرائی کسی پیشگوئی کی مقرر میعاد سے قبل اس پر اعتراض کرنا کسی خدا ترس انسان کا کام نہیں ہو سکتا مگر علماء وقت کی خداناتری کہ ادھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۸۹۳ء میں خدا تعالٰی سے خبر پا کر آتھم سے متعلق پیشگوئی فرمائی اور ادھر انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا۔کہ اگر یہ پیشگوئی پوری بھی ہو گئی تب بھی ہم آپ کو سچا ماننے کے لئے تیار نہ ہوں گے۔اور عیسائیوں اور مسلمانوں کو بھی یقین رکھنا چاہیے کہ یہ پیشگوئی الهام رحمانی سے نہ تھی بلکہ ایک درو نگوئی ولاف زنی تھی جو اتفاقا مطابق واقعہ نکلی۔ایسی پیشگوئیاں تو کاہن نجومی رمی جو تشی۔فلاسفر مسمرائز رقیافہ شناس روحانیت کی تسخیر کے عالم اور انکل باز بھی کرتے ہیں۔جو بعض اوقات صحیح نکلتی ہیں۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے یہ بھی لکھا۔" اس پیشگوئی میں فریق مخالف حق کے فوت ہو جانے کی صریح لفظ موت سے خبر نہیں دی۔صرف یہ کہا کہ وہ بار یہ یعنی جہنم میں ڈالا جائے گا جو ہر ایک مخالف حق کا ٹھکانہ ہے "۔اس پر اپیگینڈے کا مقصد صرف یہ تھا کہ مسلمان اور عیسائی ابتداء ہی سے ایسے مسموم کر دیئے جائیں کہ وہ کسی حال میں بھی اس پیشگوئی سے فائدہ نہ اٹھا ئیں۔عیسائیت نواز علماء کا یہ تمسخر د استهزاء جاری ہی تھا کہ امرت سرمشن کے روح رواں اور عیسائی آنریری مشنری پادری رائٹ ہاول عین جوانی میں اس جہاں سے کوچ کر گئے۔ان کی موت سے پادریوں کو سخت صدمہ پہنچا اور انہوں نے ہاتھی کپڑے پہن لئے۔اور ایک پادری کی زبان سے گرجے میں تقریر کرتے ہوئے یہ الفاظ بھی نکل گئے۔کہ آج رات خدا کے غضب کی لاٹھی بے وقت ہم پر چلی اور اس کی خفیہ تلوار نے بے خبری میں ہم کو قتل کیا۔اس کے علاوہ خاص جنڈیالہ میں جہاں مباحثے کی بنیاد پڑی تھی۔ڈاکٹر یو حنا صاحب جو مباحثے کی طباعت کے منتظم تھے اور اپنی خدمات کے باعث عیسائیوں میں ایک رکن اعلیٰ متصور ہوتے تھے اس جہان سے رخصت ہو گئے۔رہے عیسائی مناظر عبد اللہ آتھم صاحب سو خدائی تلوار پورے پندرہ