تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 502 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 502

تاریخ احمدیت۔جلدا ۵۰۱ مرکز اسلام میں حضرت مسیح موعود کی آمد کے تذکرے رمضان میں کسوف و خسوف کا نشان گذشته صحیفوں بالخصوص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صلحائے امت محمدیہ نے خبر دے رکھی تھی کہ مسیح موعود کی سچائی کے لئے آسمان پر چاند اور سورج کو گرہن لگے گا۔چنانچہ حضرت امام باقر رضی اللہ عنہ کی واضح حدیث تھی کہ اِن لِمَهْدِينَا أَيَتَيْنِ لَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلْقِ السَّمَوتِ وَالأَرْضِ يَنكَسِفُ الْقَمَرُ لاَ وَلِ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ وَتَنْكَسِفَ الشَّمْسُ فِي النِّصْفِ مِنْهُ وَلَمْ تَكُونَا مُنذُ خَلَقَ اللهُ السَّمَوتِ وَالأَرْضَ۔A یعنی ہمارے مہدی کی تائید و تصدیق کے لئے دو نشان مقرر ہیں جو زمین و آسمان کی پیدائش سے اب تک کسی مدعی کی صداقت کے لئے ظاہر نہیں ہوئے اور وہ یہ کہ چاند کو رمضان میں گرہن کی راتوں میں سے) پہلی رات یعنی تیرھویں تاریخ کو اور سورج کو گرہن کی تاریخوں میں سے ) درمیانی تاریخ یعنی اٹھا ئیسویں کو گرہن لگے گا۔اور جب سے کائنات پیدا ہوئی ہے ایسا کسی مدعی (مہدویت) کے وقت میں نہیں ہوا کہ اس کے دعوئی کے وقت میں رمضان کی ان تاریخوں میں خسوف و کسوف ہوا ہو۔علاوہ ازیں حضرت نعمت اللہ صاحب ولی اور بعض گذشته علماء مولوی حافظ محمد صاحب لکھو کے نے بھی خسوف کسوف کے ظہور کی اطلاع دی تھی۔بلکہ ملتان کے ایک مشہور ولی کامل حضرت شیخ محمد عبد العزیز بہاروی نے تو از روئے الہام یہ بھی خبر دے دی تھی کہ یہ نشان ۱۳۱۱ھ میں ظاہر ہو گا۔سو آپ کی سچائی کی شہادت کے لئے اس پیشگوئی کے عین مطابق مشرقی ممالک میں ۲۱ مارچ ۱۸۹۴ء کو چاند گرہن اور ۶۔اپریل ۱۸۹۴۷ء کو سورج گرہن ہوا۔اگلے سال امریکہ میں بھی مجوزہ تاریخوں میں کسوف و خسوف ہوا۔یہ کسوف و خسوف اپنے اندر خاص ندرت رکھتا تھا یہی وجہ تھی کہ اس کے مشاہدہ کے لئے سائنسدانوں نے ہندوستان میں خاص طور پر ایک رصد گاہ تعمیر کی اور امریکہ اور یورپ اور دیگر ممالک سے بھی بہت سے منجم اسے دیکھنے کے لئے آئے۔تصویری زبان میں گویا یہ ایک آسمانی نظارہ تھا جس میں اللہ تعالٰی کی طرف سے انتباہ کیا گیا تھا کہ امت کے آفتاب و ماہتاب یعنی علماء بے نور ہو چکے ہیں۔اخبار " سول اینڈ ملٹری گزٹ " لاہور (۱۸۹۴ء) میں ان گرہنوں کو عجیب قرار دیا گیا۔سورج گرہن کے موقعہ پر قادیان میں کئی دوست گرہن دیکھنے میں مشغول تھے۔ابھی خفیف سی سیاہی شروع ہوئی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کسی نے عرض کیا کہ سورج کو گرہن لگ گیا ہے آپ نے دیکھا تو نہایت ہی خفیف سی سیاہی معلوم ہوئی۔حضور نے اظہار افسوس کرتے ہوئے فرمایا