تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 501
تاریخ احمدیت۔جلدا ۵۰۰ مرکز اسلام میں حضرت مسیح موعود کی آمد کے تذکرے تک تبلیغ حق کا ایک غیبی سامان سمجھتے ہوئے "حمامہ البشری" کے نام سے عربی زبان میں ایک معركته الاراء کتاب تصنیف فرمائی۔یہ کتاب آپ نے ۱۸۹۳ء میں ہی تصنیف فرمائی تھی مگر اس کی اشاعت فروری ۱۸۹۴ء مطابق رجب ۱۳۱۱ھ میں ہوئی۔حضرت اقدس نے اس میں اہل مکہ کے لئے مسئلہ نزول مسیح اور اپنے دعوئی سے متعلق خوب وضاحت فرمائی اور بتایا کہ آپ کی آمد سے گزشتہ تمام نوشتے پورے ہو گئے ہیں۔یہ کتاب بلاد عربیہ میں مفت تقسیم کی گئی۔یہی نہیں بلکہ اسکے بعد جو عربی تصانیف حضور نے فرما ئیں وہ بھی حجاز ، شام ، عراق ، مصر اور افریقہ کے مسلمانوں کو مفت بطور ہد یہ روانہ کی گئیں۔نور الحق (حصہ اول) کی تصنیف و اشاعت " جنگ مقدس میں عیسائیت کو جو شکست فاش ہوئی ہندوستان کے پادری اس سے گھبرا گئے۔چنانچہ اپنی ناکامی اور مفت پر پردہ ڈالنے کے لئے مشہور دریدہ دہن اور زبان در از پادری عماد الدین نے تو زین الا قوال" کے نام سے ایک نہایت اشتعال انگیز کتاب لکھی جس میں قرآن مجید اور فخر کائنات رسول خدا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر نہایت درجہ ناپاک، رکیک اور گندے حملے کئے۔اس کتاب نے ہندوستان میں بڑا اشتعال پیدا کر دیا۔مگر اس کا جواب دینے کی توفیق کسی اور مسلمان عالم کو تو نہ ہوئی البتہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے چند دنوں میں اس کا نا قابل تردید جواب لکھا۔جس میں حضور نے پادری عماد الدین اور دوسرے تمام مولوی کہلانے والے پادریوں کو میدان مقابلہ میں آنے کے لئے للکارا۔اور اعلان کیا کہ اگر وہ سب مل کر بھی اس کتاب کا حقیقی جواب تین ماہ میں لکھ دیں۔تو انہیں پانچ ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا لیکن اگر وہ نہ تو جواب لکھیں اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین سے باز آئیں تو خدا کی ان پر ایک ہزار لعنت ہو۔حضرت اقدس کا یہ جواب ۱۸۹۴ء کے آغاز میں "نور الحق " حصہ اول کے نام سے طبع ہو ا جو نہایت مقفی و مجمع اور فصیح و بلیغ عربی زبان میں ہے۔حضور نے اس کتاب میں صلیبی فتنہ کی تباہی کے لئے درد انگیز دعابھی کی جواب شاندار طریق سے پوری ہو رہی ہے چنانچہ جس وقت آپ نے یہ دعا کی عیسائیت کا خوفناک طوفان ہر طرف چھایا ہوا تھا مگر آج یہ رنگ نہیں اور اس کا پہلا نہ ہی جوش بہت حد تک ختم ہو چکا ہے اور یہ سب کچھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں اور روحانی برکات و تاثیر کی بدولت ہے۔