تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 486 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 486

تاریخ احمدیت۔جلدا ۴۸۵ آئینہ کمالات اسلام کی تصنیف و اشاعت سب لوگ آپ کے جواب کی برجستگی اور معقولیت کے قائل ہو گئے آپ نے فرمایا کہ اس قسم کے مریضوں کو اچھا کرنا انجیل میں لکھا ہے ہم تو اس کے قائل ہی نہیں ہمارے نزدیک تو حضرت مسیح کے معجزات کا رنگ ہی اور تھا۔یہ تو انجیل کا دعویٰ ہے کہ وہ ایسے بیماروں کو جسمانی رنگ میں اچھا کرتے تھے۔لیکن اسی انجیل میں لکھا ہے کہ اگر تم میں رائی برابر بھی ایمان ہو گا تو تم مجھ سے بھی بڑھ کر عجیب کام کر سکتے ہو۔پس ان مریضوں کو پیش کرنا آپ لوگوں کا کام نہیں بلکہ ہمارا کام ہے اور اب میں ان مریضوں کو جو آپ نے نہایت مہربانی سے جمع کرلئے ہیں آپ کے سامنے پیش کر کے کہتا ہوں کہ براہ مہربانی انجیل کے حکم کے ماتحت اگر آپ لوگوں میں ایک رائی کے دانہ برابر بھی ایمان ہے تو ان مریضوں پر ہاتھ رکھ کر کہیں کہ اچھے ہو جاؤ۔اگر یہ اچھے ہو گئے تو ہم یقین کرلیں گے کہ آپ اور آپ کا مذہب سچا ہے۔حضرت اقدس کی طرف سے یہ برجستہ جواب سن کر پادریوں کے ہوش اڑ گئے اور انہوں نے جھٹ اشارہ کر کے ان لوگوں کو وہاں سے رخصت کر دیا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اس مباحثہ میں یہ اصول پیش کیا کہ فریقین مباحثے کا اثر کولازم ہو گا کہ جود عولی کریں وہ دعوئی اس الہامی کتاب کے حوالہ سے کیا جائے جو الہامی قرار دی گئی ہے اور جو دلیل پیش کریں وہ دلیل بھی اسی کتاب کے حوالہ سے ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس سنہری اصول کا التزام کرتے ہوئے قرآن کریم کی صداقت جس خوبی سے نمایاں کر کے دکھائی ہے اس کا لطف اصل پر چے دیکھنے سے ہو سکتا ہے۔اس کے مقابل عیسائی مناظر اس میں سراسر نا کام ہوئے یہ اس فتح عظیم کا نتیجہ تھا کہ کر نیل الطاف علی خاں صاحب رئیس کپور تھلہ جو مباحثہ میں عیسائیوں کی صف میں بیٹھتے تھے آخری دن حضرت اقدس کی خدمت میں پہنچے اور عیسائیت سے تائب ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔مباحثہ کا آخری دن (۵ - جون ۱۸۹۳ء) بڑے معرکے کا دن تھا باطل فریق کے لئے پیشگوئی کیونکہ اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا سے علم پا کر باطل فریق کے متعلق یہ زبر دست پیشگوئی فرمائی کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمد ا جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور کچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہادیہ میں گرایا جاوے گا۔اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔اس کے بعد حضور نے مسٹر آتھم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر یہ نشان پورا ہو گیا تو کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے نبی ہونے کے بارہ میں جن کو اندرونہ بائبل (صفحہ ۷۰ ۷۵۴) میں معاذ اللہ وجال کے لفظ سے آپ یاد کرتے