تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 485
تاریخ احمدیت جلدا آئینہ کمالات اسلام" کی تصنیف و اشاعت فرقہ کسی ایسے فرقہ کو جو قرآن اور حدیث کو مانے کافر نہیں کہتا دیکھو مقدمہ نمبر ۱۳۰۰ بعد الت لاله دیو کی نندن مجسٹریٹ درجہ (اول) ایک غیر احمدی عالم اس نشان کے پورا ہونے کا اقرار کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔”مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی مرزا صاحب کے سخت مخالف تھے۔حتی کہ آپ نے مرزا کفر کے فتوے لگائے عین اس زمانہ میں مرزا صاحب نے پیشگوئی کی کہ مولانا موصوف وفات سے قبل میرا مومن ہونا تسلیم کرلیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اور مولوی صاحب کو عدات میں یہ بیان دینا پڑا کہ ان کا فرقہ جماعت مرزائیہ کو مطلقاً کافر نہیں کہتا یہ ایک ایسا بد یہی نشان ہے جس سے انکار نہیں ہو سکتا۔صاحب ہے جنگ مقدس طے شدہ شرائط کے مطابق -۲۲ - مئی سے ۵- جون ۱۸۹۳ء تک امرتسر میں مباحثہ ہوا۔جو جنگ مقدس کے نام سے چھپا ہوا موجود ہے۔یہ مباحثہ مسٹر ہنری مارٹن کلارک کی کوٹھی میں ہوا۔مسلمانوں کی طرف سے منشی غلام قادر صاحب فصیح (وائس پریذیڈنٹ میونسپل کمیٹی سیالکوٹ) نے اور عیسائیوں کی طرف سے ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب نے صدر کے فرائض سرانجام دیئے۔حضور کے ساتھ معاونین کے طور پر حضرت مولانا نور الدین صاحب مولانا سید محمد احسن صاحب اور شیخ اللہ دیا صاحب لدھیانوی تھے۔اور عیسائی مناظر آنھم کے معاون پادری ہے۔ایل ٹھاکر داس ، پادری عبد اللہ اور پادری ٹامس ہاول صاحب قرار پائے۔کرنیل الطاف علی خاں صاحب رئیس کپور تھلہ جو عیسائیت اختیار کر چکے تھے عیسائیوں کی طرف بیٹھتے۔ایک طرف حضرت اقدس اور دوسری طرف عبد اللہ آتھم صاحب بیٹھتے تھے۔دونوں فریقوں کے درمیان خلیفہ نورالدین صاحب جمونی اور منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی مباحثہ کی کارروائی نوٹ کرتے۔اسی طرح عیسائیوں کے آدمی بھی لکھتے تھے اور بعد میں تحریروں کا مقابلہ کر لیتے تھے۔مباحثہ کے دوران میں ایک عجیب ایمان افزا واقعہ پیش آیا جس نے ایک ایمان افروز واقعہ اپنوں اور بیگانوں کو حیران کر دیا۔عیسائیوں نے آپ کو شرمندہ کرنے کے لئے یہ صورت نکالی کہ ایک دن چند لولے لنگڑے اور اندھے اکٹھے کر لئے اور کہا کہ آپ کو مسیح ہونے کا دعویٰ ہے ان پر ہاتھ پھیر کر اچھا کر دیں۔مجلس میں ایک سناٹا سا چھا گیا۔اور مسلمان نہایت بے تابی سے انتظار کرنے لگے کہ دیکھیں آپ اس کا کیا جواب دیتے ہیں اور عیسائی اپنی اس کارروائی پر پھولے نہیں سماتے تھے لیکن جب حضور نے اس مطالبہ کا جواب دیا تو ان کی فتح شکست سے بدل گئی اور