تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 487
تاریخ احمدیت۔جلدا ۴۸۶ آئینہ کمالات اسلام " کی تصنیف و اشاعت ہیں محکم دلیل ٹھرے گی یا نہیں ؟ یہ ہیبت ناک پیشگوئی سن کر مسٹر آئھم کا رنگ فق اور چہرہ زرد ہو گیا اور ہاتھ کانپنے لگے اور انہوں نے بلا توقف اپنی زبان منہ سے نکالی اور دونوں ہاتھ کانوں پر رکھے جیسا کہ ایک خائف ملزم تو بہ اور انکسار کے رنگ میں اپنے تئیں ظاہر کرتا ہے۔اور بار بار لرزتی ہوئی زبان سے کہا تو بہ توبہ میں نے بے ادبی اور گستاخی نہیں کی اور میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہرگز دجال نہیں کہا۔aa سفر جنڈیالہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام مناظرہ سے فارغ ہونے کے بعد مسلمانان جنڈیالہ کی درخواست پر ایک دن کے لئے جنڈیالہ تشریف لے گئے۔قصبہ کے اکثر معزز لوگوں نے جو حضور کی زیارت کے مشتاق تھے آپ کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔اور ایک نئے مکان میں حضور کا قیام ہوا۔مکان کے ایک دالان اور کوٹھری میں فرش بچھا ہوا تھا۔کو ٹھری میں تو حضرت اقدس فروکش ہوئے اور چند خدام حضرت مولانانور الدین صاحب کے ساتھ مکان کی ملحقہ مسجد میں آکر بیٹھ گئے۔اہل جنڈیالہ نہایت شوق سے مسجد میں جمع ہوئے اور مناظرہ کے کوائف سنتے رہے حضرت مولانا بڑی دیر تک وعظ فرماتے اور حالات سناتے رہے۔اہل جنڈیالہ اس دن اس قدر خوش تھے کہ گویا ان کے واسطے عید کا دن تھا۔دوپہر کا کھانا تناول کرنے کے بعد تھوڑی دیر ٹھہر کر حضرت اقدس سبھی مسجد میں تشریف لے آئے اور دیر تک اپنے مقدس کلمات سے نوازتے رہے۔حضور نے بڑی تفصیل سے ان غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جو علماء نے پھیلا رکھی تھیں اور نصوص قطعیہ سے حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات ثابت کی جس سے لوگوں کی خوب تسلی ہوئی اور وہ نہایت شکر گزار ہوئے۔حضرت اقدس عصر کی نماز تک جنڈیالہ میں مقیم رہے اور عصر کے بعد تھوڑی دیر بیٹھ کر امر تسر تشریف لے آئے۔قادیان کو واپس جنڈیالہ سے آنے کے بعد چند روز حضور نے مزید امرتسرمیں قیام فرمایا اور جون کے دوسرے ہفتہ میں قادیان تشریف لے آئے۔