تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 484 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 484

تاریخ احمدیت۔جلدا ۸۳ " آئینہ کمالات اسلام " کی تصنیف و اشاعت سے پادری عبد اللہ آتھم مناظر قرار پائے۔بعض علماء کی عیسائیت نوازی جب امرتسر اور بٹالہ کے بعض مولویوں کو معلوم ہوا تو انہوں نے آتھم صاحب کی کوٹھی پر جا کر کہا کہ تم نے دو سرے علماء سے بحث کیوں منظور نہ کی مرزا صاحب سے کیوں بحث پر رضامندی ظاہر کی ان کو تو تمام علماء کا فر کہتے ہیں اور ان پر اور ان کے مریدوں پر کفر کے فتوے لگ چکے ہیں۔آتھم صاحب تو پہلے ہی حضرت اقدس سے خوفزدہ تھے ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک سے کہنے لگے کہ میں نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ مرزا صاحب سے بحث کرنا آسان نہیں۔اب یہ موقع اچھا ہاتھ آگیا ہے۔مرزا صاحب کو جواب دے دو اوران مولویوں سے بے شک مباحثہ کر لو کوئی حرج نہیں چنانچہ پادری مارٹن کلارک نے ۱۲ - مئی ۱۸۹۳ء کو ایک اشتہار دیا کہ مرزا صاحب کو علماء نے کافر قرار دیا ہے۔لہذاوہ اسلام کے وکیل نہیں ہو سکتے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے اس کے جواب میں انہیں خط لکھا کہ اب آپ کا انکار درست نہیں۔آپ لوگوں کی تحریریں اور وعدے اور منظور کردہ شرائط ہمارے پاس ہیں پس آپ کو یا تو بحث کرنا ہوگی یا پھر شکست تسلیم کرنی پڑیگی اگر یہ بات اخباروں میں شائع کرد و او راپنی شکست کا اعتراف کر لو پھر تمہیں اختیار ہے جس مولوی سے چاہو بحث کر لو۔نیز فرمایا تم ہمیں کفر کے فتووں کا طعنہ دیتے ہو حالانکہ یہ فتاوی کفر ہم پر چسپاں نہیں ہو سکتے۔ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے بچے مسلمان ہیں اور ایک خدا تریس عالم فاضل مسلمانوں کی جماعت ہمارے ساتھ ہے اور کفر کے فتوے تو آپ لوگوں پر بھی لگ چکے ہیں پروٹسٹنٹ کیتھولک مذہب والوں کو کا فر بلکہ واجب القتل یقین کرتے ہیں۔پھر تو آپ بھی عیسائیت کے وکیل نہیں ہو سکتے۔پس فتاری کفر میں ہم اور تم برا بر ہیں۔بحث تو دراصل حق اور باطل میں ہے کہ آیا حق آپ کی طرف ہے یا ہم حق پر ہیں۔اس میں کفر کے فتوؤں کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہو تا۔ہم نے اسلام او بر قرآن کریم کی وکالت کرنی ہے اور آپ نے اناجیل کی بھلا اس کو فتاوی کفر سے کیا تعلق " ۳۵ حضرت اقدس نے مناظرہ کی ابتدائی خط و کتابت، مارٹن کلارک کا چیلنج ، پائندہ صاحب کا خط مناظرہ کے شرائط اور دیگر تمہید کو الف منظر عام پر لانے کے لئے حجتہ الاسلام " اور "سچائی کا اظہار " نامی رسالے شائع کئے۔حجتہ الاسلام میں حضور نے خدا تعالیٰ سے علم پا کر اول المکفرین مولوی محمد حسین بٹالوی سے متعلق یہ خبر دی کہ وہ مرنے سے قبل میرا مومن ہونا تسلیم کرلیں گے اور تکفیر سے رجوع کر لیں گے۔چنانچہ یہ پیشگوئی ۱۹۱۴ء میں پوری ہو گئی جب کہ مولوی صاحب نے ضلع گوجرانوالہ کے حج لالہ دیو کی نندن کی عدالت میں حلفیہ شہادت دی کہ فرقہ احمد یہ بھی قرآن و حدیث کو مانتا ہے اور ہمارا