تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 482 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 482

تاریخ احمدیت۔جلدا آئینہ کمالات اسلام " کی تصنیف و اشاعت پاکستان کے سلسلہ میں حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ہدایات کے تحت آپ نے شاندار خدمات انجام دیں۔جن کا مفصل ذکر اپنے مقام پر آرہا ہے۔۳۱۔اگست ۱۹۴۷ء کو جب حضرت اقدس مصلح موعود ہجرت کر کے قادیان سے پاکستان تشریف لائے تو حضور نے آپ کو امیر مقامی نامزد فرمایا حضرت صاحبزادہ صاحب نے قادیان میں ۲۳ - ستمبر۷ ۱۹۴ء تک نہایت احسن رنگ سے نیابت کے فرائض ادا کئے اور پھر حضور کے خاص ارشاد کے تحت پاکستان تشریف لے آئے۔یہاں حفاظت مرکز کا اہم شعبہ آپ کے سپرد ہوا۔جس کی زمام قیادت آپ اب تک نہایت خوش اسلوبی سے سنبھالے ہوئے ہیں۔اس ذمہ داری کے ساتھ ساتھ آپ نے وقت کے ہراہم جماعتی تقاضے کو پورا کرنے میں انتہائی معالمہ فہمی اور بیدار مغزی کا ثبوت دیا ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ جب مرکز سے باہر تشریف لے جاتے ہیں تو حضور آپ کو ہی امیر مقامی تجویز فرماتے ہیں۔غرضکہ حضرت صاحبزادہ صاحب کی زندگی اسلام و احمدیت کے لئے مسلسل جہاد اور تاریخ احمدیت کا زریں ورق ہے۔اللہ تعالٰی آپ کو صحت و توانائی کے ساتھ لمبی عمر بخشے۔آمین۔(جدید ایڈیشن سے قبل آپ وصال فرما چکے ہیں۔تاریخ وفات ۲- ستمبر ۱۹۶۳ء) تصنیف و اشاعت "بركات الدعاء" سرسید احمد خاں مرحوم ہندوستانی مسلمانوں کے عظیم سیاسی لیڈر تھے جنہوں نے مسلمانوں کی کمپری سے مضطرب ہو کر ان کی رفاہ و بہبود کا بیڑا اٹھایا اور تعلیمی و معاشرتی اصلاح کے لئے ایک منظم تحریک کا آغاز کیا۔جس نے دیوی اعتبار سے مسلمانان ہند کو بڑے بڑے فوا مکہ پہنچائے مگر بد قسمتی سے انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے پاکیزہ جذبہ کے جوش میں مغربیت اور اسلام کی صلح کرانے کے لئے اسلام کے اہم بنیادی اصول مشار وحی کو اندرونی خیالات کا نام دیگر استجابت دعاء غیرہ کا انکار کر دیا اور اپنے خیالات کی اشاعت کے لئے قرآن مجید کے ایک حصے کی تغیر شائع کی اور پھر رسالہ "الدعاء والاستجابه " اور " تحریر فی اصول التفسیر " کے ذریعہ سے اپنے نظریات دہرائے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو دنیا میں وحی اور دعا کی قبولیت کا مجسم نشان بن کر آئے تھے آپ بھلا ایسے خیالات کو کب برداشت کر سکتے تھے چنانچہ حضور نے اپریل ۱۸۹۳ء کو ” برکات الدعاء " جیسی لطیف تصنیف شائع فرمائی اس رسالے میں حضور نے سرسید احمد خاں کو پنڈت لیکھرام کے عبرت ناک انجام کے بارہ میں اپنی دعا کے قبول ہونے کی قبل از وقت خبر دیتے ہوئے یہ زبر دست پیشگوئی بھی فرمائی کہ جب تک لیکھرام کی موت واقع نہ ہوگی وہ زندہ رہیں گے جیسا کہ حضور نے فرمایا