تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 423 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 423

تاریخ احمدیت۔جلدا ۴۲۲ ازالہ اوہام " کی تصنیف و کی تصنیف و اشاعت سید نذیر حسین صاحب دہلوی اور مولوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انہی عبدالحق صاحب کو مباحثہ کی دعوت حالات میں ۲۔اکتوبر کو شیخ الکل مولوی سید نذیر حسین صاحب (۱۸۰۵ - ۱۹۰۲) اور شمس العلماء مولوی عبدالحق صاحب حقانی (۱۸۴۹-۱۹۱۲) کو بذریعہ اشتہار قرآن و حدیث صحیح سے وفات مسیح پر تحریری بحث کی کھلی دعوت دی اور لکھا کہ امن قائم رکھنے کے لئے وہ خود سرکاری انتظام کرا دیں کیونکہ میں مسافر ہوں اور اپنی عزیز قوم کا مورد عتاب !! اشتہار میں آپ نے یہ حلفیہ اقرار بھی کیا کہ اگر میں اس بحث میں غلطی پر ثابت ہوا تو میں اپنے دعوے سے دست بردار ہو جاؤں گا۔اس اشتہار کے نکلنے پر مولوی شمس العلماء مولوی عبد الحق صاحب کی معذرت عبد الحق صاحب حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اور عرض کیا کہ حضرت میں تو آپ کا بچہ ہوں۔آپ میرے بزرگ ہیں آپ کا مقابلہ بھلا مجھ جیسا نا چیز آدمی کیا کر سکتا ہے۔میرا نام اشتہار سے کاٹ دیں۔میں ایک فقیر گوشہ نشین اور ایک زاویہ گزین درویش ہوں اور مباحثات سے مجھے کوئی سروکار نہیں ہے حضرت اقدس نے فرمایا کہ اچھا آپ ہی اپنے ہاتھ سے کاٹ دیں۔چنانچہ مولوی صاحب نے اپنے ہاتھ سے اپنا نام کاٹ دیا۔شیخ الکل مولوی سید نذیر حسین صاحب کا انکار مولوی عبدالحق صاحب نے تو ہوں پہلو بچایا ممکن تھا کہ مولوی نذیر حسین صاحب بھی خاموش رہتے۔مگر حضرت اقدس کی آمد سے ایک دن پہلے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی پہنچ گئے۔بٹالوی صاحب نے مولوی نذیر حسین صاحب کو اپنے متشد د خیالات سے متاثر کرنا شروع کیا۔مولوی نذیر حسین صاحب نے ان سے ایک دفعہ کہا بھی کہ بڑھاپے میں مجھے رسوا نہ کرو اور اس قصے کو جانے ہی دو حضرت مسیح کی جسمانی زندگی کا کہیں بھی ثبوت نہیں مل سکتا۔لیکن مولوی محمد حسین صاحب نے ان سے کہا کہ اگر آپ ایسے کلمات زبان پر لا ئیں گے تو سب لوگ آپ سے پھر جائیں گے شیخ الکل عمر رسیدہ تھے اپنے شاگرد کی زبان سے یہ سن کر خوفزدہ ہو گئے اور مجبور ا حضرت اقدس کے مقابلے پر کمربستہ ہونا پڑا۔اب مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور ان کے بعض دوسرے شاگردوں نے یہ شرارت کی کہ حضرت اقدس کو براہ راست کسی قسم کی کوئی اطلاع دئے بغیر مباحثے کا ایک دن مقرر کر لیا اور عین وقت پر حضرت اقدس کے پاس آدمی بھیجا کہ مباحثے کے لئے تشریف