تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 422
تاریخ احمدیت۔جلدا ۴۲۱ ازالہ اوہام " کی تصنیف و اشاعت حضرت مسیح نے کسی حقیقی مردہ کو زندہ کیا تو مجھے بظاہر قدیم عقیدہ کی بناء پر تعجب ہوا۔کہ حضرت صاحب نے یہ بات کیسی لکھی۔گو میں نے اس بات کو تسلیم تو کر لیا مگر کوئی دلیل میرے پاس نہ تھی۔پس میں اسی وقت تحقیق کی نیت سے لدھیانہ حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔۔۔۔آپ شہزادہ غلام حیدر صاحب کے مکان پر تشریف رکھتے تھے۔آپ نے مجھے دیکھتے ہی سلام مسنون کے بعد فرمایا کہ کتاب کی بڑی ضرورت تھی آپ کیوں چلے آئے ؟ میں نے عرض کیا۔مجھے ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے وہ پوچھ کر آج ہی واپس چلا جاؤں گا چنانچہ میں نے عرض کیا حضور نے ازالہ اوہام میں تحریر فرمایا ہے کہ کوئی مردہ زندہ نہیں ہوا اور نہ حضرت مسیح ناصری ہی نے کسی مردہ کو زندہ کیا اس کی حقیقت کیا ہے؟ اس پر آپ نے فرمایا کہ قرآن شریف پر تو ہر ایک مسلمان کا یقین اور ایمان ہے کہ یہ کامل کتاب ہے اور خدا کا کلام ہے۔اگر کوئی مردہ زندہ ہوا ہو تا یا زندہ ہو سکتا تو قرآن کریم ورثہ اور ترکہ میں اس کا حق ضرور رکھتا۔جیسا کہ زندوں کا حق رکھا ہے۔اب نعوذ باللہ یا تو قرآنی تعلیم کو ناقص ماننا پڑے گا کہ جس نے مدت کے بعد زندہ ہونے والوں کا کوئی حق تسلیم نہیں کیا یا پھر یہ بات تسلیم کرنا پڑے گی کہ جسمانی طور پر مردے کبھی زندہ ہو کر واپس نہیں آتے۔یہ جواب سن کر میری تسلی ہو گئی اور میں اسی روزامر تسر واپس آگیا۔سفر ولی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے دعوی کی تبلیغ و اشاعت کے لئے دوسرا سفر ہندوستان کے قدیم دارالسلطنت اور مشہور علمی مرکز دلی کی طرف فرمایا۔حضور مع ام المومنین و میر محمد اسمعیل صاحب و غیره قادیان سے روانہ ہو کر ۲۹ ستمبر ۱۸۹ء کو دلی پہنچے اور نواب لوہارو کی دو منزلہ کو ٹھی واقع محلہ بیماراں میں قیام فرما ہوئے۔پہلی منزل میں مرد اور دوسری یعنی بالائی منزل میں حضرت ام المومنین مقیم ہوئیں۔حضور کے دلی میں وار ہوتے ہی چاروں طرف یہ خبر پھیل گئی۔اہل دلی کے ایک طبقہ نے جو مخالف و متشدد علماء کے زیر اثر خطرناک غلط فہمیوں میں مبتلا تھا۔خدا کے مسیح سے ویسا ہی سلوک روا رکھا جیسا ماموران الہی کے ساتھ منکرین حق ابتداء سے کرتے چلے آئے ہیں۔اور حضرت مسیح ناصری سے یہود نا مسعود نے کیا تھا۔حضور جس کو ٹھی میں مقیم تھے اس کے نیچے بازار میں شوریدہ سر اور آتش مزاج لوگ نہایت بیباکی و خود سری سے گندی گالیاں دیتے اور کو بھی پر خشت باری کرتے تھے۔