تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 390 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 390

تاریخ احمدیت جلد ! ٣٨٩ دعوئی مسیحیت حضرت مسیح موعود کی اصل کتابیں ”فتح اسلام " توضیح مرام اور ازالہ اوہام وغیرہ دیکھیں تو آپ پر حق کھل گیا۔اور آپ اگلے ہی سال حضرت امام الزمان کے قدموں میں آگئے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کفر کی جو قرار داد جرم تیار کی اس کا ایک دلچسپ مگر عبرت انگیز پہلو یہ تھا کہ انہوں نے ایک طرف تو یہ لکھا کہ مرزا صاحب اپنے تئیں محدث لکھتے ہیں۔حالانکہ حدیث شریف میں بڑی صراحت کے ساتھ یہ لکھا ہے کہ مسیح موعود قطعی طور پر نجی اللہ ہو گا اور دوسری طرف یہ لکھا کہ نصوص کے لحاظ سے جو شخص آنحضرت کے بعد دعویٰ نبوت کرے چاہے محدث ہی کیوں نہ کہلا تا ہو) وہ دجال و کذاب ہے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور ان کے ہم نوا علماء نے فتویٰ تکفیر کے بعد مخالفت کا کوئی دقیقہ فرد گذاشت نہیں کیا۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے ابتداء میں قادیان کی ناکہ بندی کے لئے بٹالہ اسٹیشن سے قادیان والی نہر تک اپنے ایجنٹوں کا گویا ایک جال بچھا رکھا تھا۔جو اسٹیشن سے اترتے ہی قادیان جانے والوں کو روکتے تھے۔ان ایجنٹوں نے ایک کیمپ سالگا رکھا تھا جہاں جانے والوں کے لئے حقہ کا انتظام ہو تا تھا۔چنانچہ بعض صحابہ کا بیان ہے کہ شروع شروع میں جب ہم قادیان جایا کرتے تھے تو بٹالہ کے اسٹیشن اور قادیان کی سڑک پر میل میل کے فاصلے سے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی آدمی بٹھا دیا کرتے تھے۔ہر شخص کے ہاتھ میں ایک بڑار جسٹر ہوا کرتا تھا جس پر جانے والوں کے نام اور جانے کی غرض درج کی جاتی تھی۔کبھی کبھی مولوی محمد حسین صاحب خود بھی یہ " خدمت انجام دیتے تھے اور قادیان جانے والوں سے پوچھا کرتے تھے کہ تم کیوں اور کس لئے جاتے ہو ؟ جب لوگ کہتے کہ حضرت مرزا صاحب کو ملنے کے لئے جاتے ہیں تو وہ ہر ممکن کوشش سے رو کا کرتے اور واپس جانے کے لئے کہتے۔کئی آدمی انہوں نے واپس بھی گئے۔اس زمانہ میں عوام مولوی محمد حسین صاحب کی وجہ سے بھی جانے سے ڈرتے تھے۔نیز وہ سمجھتے تھے کہ یہ رجسٹر جو رکھے جاتے ہیں گورنمنٹ کے حکم سے رکھے جاتے ہیں۔اور ہمارے خلاف ضرور کوئی کارروائی کی جائے گی۔قتل کرنے کی سازش بیرونی کوششوں کی ناکامی دیکھ کر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قتل کرانے کی بھی متعدد بار سازش کی چنانچہ مولوی عمرالدین صاحب شملوی کی شہادت ہے کہ ایک دفعہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور حافظ عبد الرحمن صاحب سیاح امرتسری آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ مرزا صاحب کو چپ کرانے کی کیا تجویز ہو۔حافظ عبد الرحمن صاحب نے کہا میں بتاتا ہوں۔مرزا صاحب اعلان کر چکے ہیں کہ میں مباحثہ نہیں کروں گا۔اب انہیں مباحثہ کا چیلنج دیدو۔اگر تو وہ تیار ہو گئے تو انہیں کا قول یاد دلا کر نادم