تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 391 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 391

تاریخ احمدیت جلدا ٣٩٠ دھوٹی مسیحیت کیا جائے۔کہ ہم پبلک کو صرف یہ دکھانا چاہتے تھے کہ آپ کو اپنے قول کا پاس نہیں۔اور اگر مباحثہ سے انکار کیا تو ہم یہ اعلان کر دیں گے کہ دیکھو ہمارے مقابل پر آنے کا حوصلہ نہیں۔مولوی عمرالدین صاحب نے کہا مجھے کہو تو میں انہیں جا کر مار آتا ہوں جھگڑا ہی ختم ہو جائے۔اس پر وہ کہنے لگے تمہیں کیا معلوم ہم یہ سب تدبیریں کر چکے ہیں کوئی سبب ہی نہیں بنتا یہ سنتے ہی مولوی عمر الدین صاحب کے دل میں حضور کی صداقت کا یقین ہو گیا۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اپنی اس حسرت کا دوبارہ اظہار کر کے اور عیسائی حکومت کو آپ کے قتل پر اکسا کر۱۸۹۷ء میں لکھا۔" حکومت و سلطنت اسلامی ہوتی تو ہم اس کا جواب آپ کو دیتے۔اسی وقت آپ کا سرکاٹ کر آپ کو مردار کرتے۔بچے نبی کو گالیاں دینا مسلمانوں کے نزدیک ایک ایسا کفر اور ارتداد ہے۔جس کا جواب بجر قتل اور کوئی نہیں۔مگر کیا کریں مجبور ہیں۔سلطنت غیر اسلامی ہے اس کے ماتحت رہ کر ہم اس فعل کے مجاز نہیں اور سلطنت کو جو (عیسائی کہلاتی ہے ) اس امر کی پروا نہیں ہے۔رہے پادری جو مذہب ہی کی خدمت و حمایت کے صدقہ د طفیل سے ٹکڑا کھاتے ہیں سو (وہ) بھی اپنی تنخواہ سے کام رکھتے ہیں حمیت و غیرت مذہب کو خیر باد کہہ چکے ہیں۔اب آپ شوق سے جس قدر چاہیں حضرت مسیح کو یا کسی اور نبی کو گالیاں دیں کوئی پوچھنے اور پکڑنے والا نہیں ہے "۔m بهر حال مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے حضرت مسیح موعود کے خلاف فتنہ تکفیر کھڑا کر کے آپ کو مٹانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔اور اس طرح صلحاء امت کی یہ پیشگوئی پوری ہو گئی کہ صبیح موعود پر علماء کفر کا فتویٰ لگائیں گے اور ایسا ہوتا اس لئے بھی ضروری تھا کہ امت کا بیشتر حصہ صراط مستقیم سے ادھر ادھر ہو چکا تھا۔چنانچہ عراق کے ایک عالم شیخ محمد رضا یسی ﷺ فرماتے ہیں الالَيْتَ شِعْرِى مَا تَرَى رُوحُ أَحْمَدَ إذَا طَالعَتْنَا مِنْ عَل أو اطلت واكْبَرُ ظَنِّي لَوْانَانَا مُحَمَّد تلاقى الَّذِي لَاقَاهُ مِنْ أَهْلِ مَكَةِ عدلنَا مِنَ النُّوْرِ الَّذِي جَاءَ نَا بِهِ كما عَدَلَتْ عَنْهُ قُرَيْشٍ فَضَلَّتِ اذن لَقَضَى لَا مَنْهَجَ النَّاسِ مَنْهَجِي وَلَا مِلَةُ الْقَوْمِ إِلَّا وَاخِرُ مِلَّتِي (ترجمہ) اگر احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ سلم کی روح عالم بالا پر ہمارے حالات سے واقف ہو جائے یا ہمیں جھانکے اور دیکھ پائے تو معلوم نہیں ہمارے متعلق کیا رائے قائم کرے۔میرا ظن غالب ہے کہ محمد آج ہمارے پاس تشریف لے آئیں تو آپ کو آج بھی اس قوم کے ہاتھوں اس قسم کے مصائب اور انکار حق سے دوچار ہونا پڑے گا۔جس طرح اہل مکہ کے ہاتھوں دو چار ہوئے (کیونکہ) ہم اس نور حق سے جسے آپ لے کر مبعوث ہوئے تھے اسی طرح رو گردانی کر چکے ہیں جس طرح قریش ☑ -