تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 389 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 389

تاریخ احمدیت جلدا دعوتی مسیحیت سمجھتے تھے مل من مبارز کا نعرہ بلند کیا تو یہ خادم دہلی پہنچا اور وہاں اس کو پچھاڑا پھر جب وہ لاہور و سیالکوٹ پہنچاتو وہاں اس کا پیچھا کیا اور مباحثہ سے صاف صریح انکار کرا کے بھگا دیا - ان الفاظ سے جہاں بٹالوی صاحب کی ان سرگرمیوں پر روشنی پڑتی ہے جو ابتداء میں انہوں نے شمع صداقت بجھانے کے لئے اختیار کیں وہاں فتویٰ کفر سے متعلق ان کے وسیع پیمانے پر ملکی دورہ کا بھی پتہ چلتا ہے۔یہ فتوی کم و بیش ڈیڑھ سو صفحات پر مشتمل تھا۔اور اس میں دلی، آگرہ، حیدر آباد دکن بنگال، کانپور، علی گڑھ ، بنارس ، اعظم گڑھ، آره، غازی پور ترہٹ، بھوپال ولدھیانہ امرتسر سو جانپور لاہور بٹالہ پٹیالہ لکھو کے ضلع فیروز پور ، پشاور ، سوات راولپنڈی، ہزارہ ، جہلم حجرات سیالکوٹ وزیر آباد سوہدرہ کپور تھلہ گنگوہ دیوبند سہارنپور لکھنو مراد آباد پٹنہ کان پور غرضکہ ، (متحدہ) ہندوستان کے تمام اہم مقامات کے علماء کے فتاری درج تھے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اس فتوے کی اشاعت میں ناروا ہتھکنڈے استعمال کر کے بعض خداترس علماء کا نام بھی از خود لکھ دیا۔حالانکہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف قطعا فتوئی نہیں دیا تھا۔مثلاً حافظ عظیم بخش صاحب پٹیالہ جن کا نام مولوی محمد حسین صاحب نے خود ہی شامل فتوئی کر لیا اور حافظ صاحب کے احتجاج کے باوجود اسے اپنے فتوئی سے خارج نہیں کیا۔حافظ صاحب نے ۲۴۔مئی ۱۸۹۲ء کو حضرت اقدس کی خدمت میں اصل واقعہ لکھ دیا اور ایک فارسی نظم بھی بھجوائی جس میں نہایت عمدہ پیرایہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اخلاص وارادت کا اظہار کیا گیا جسے حضور نے اپنی کتاب " نشان آسمانی میں شائع کر دیا۔مولوی محمد حسین صاحب نے یہی چال حافظ صاحب کے استاد مولوی محمد عبد اللہ خاں پروفیسر عربی مندر کالج پٹیالہ سے متعلق چلی تھی۔اس لئے انہیں بھی اس کی تردید میں اشتہار دینا پڑا۔اس سے بڑھ کر مولوی فیض احمد صاحب علمی کا واقعہ ہے کہ گو ابتداء میں تو انہوں نے فتوی دیا تھا مگر ازالہ اوہام کی اشاعت پر تائب ہو کر انہوں نے بٹالوی صاحب سے اپنا فتوٹی واپس طلب کیا لیکن بٹالوی صاحب نہ مانے۔اور ان کا پہلا فتویٰ جس سے وہ رجوع کر چکے تھے شائع کر کے دم لیا۔فتوی دینے والے علماء میں حضرت مولوی برہان الدین صاحب علمی بھی شامل تھے مگر انہوں نے فتوی کو محدود اور مشروط اور محتاط رنگ میں پیش کر کے لکھا کہ ” نہ مطلقاً بلکہ مقید الکھا جاتا ہے کہ اگر مرزا ایسے اعتقادات کا معتقد و مدعی ہے جو سوال میں درج ہیں تو بے شک وہ انہیں فتاوی کا مستوجب و مستحق ہے جو علماء ربانیین نے اس کے حق میں لگائے ہیں۔اور عیاذ باللہ کہ کسی کے حق میں تقلید اور سمعا کوئی فتویٰ دوں اور لکھوں۔اسی فروتنی انکسار اور خدا ترسی کا نتیجہ تھا کہ جب بعد کو انہوں نے