تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 388
تاریخ احمدیت جلدا ۳۸۷ دھوٹی مسیحیت گے اور یہ ہندوستان ہے۔مرزا صاحب کیسے مسیح موعود ہو سکتے ہیں تم نے مسلمانوں کے خلاف مرزا صاحب کو کیوں مسیح موعودمان لیا۔علماء اور ان کے زیر اثر سب لوگ مجھ پر ناراض ہوئے۔اور کہا کہ یہ محض ایک گاؤں کا رہنے والا اور بے علم ہے۔کسی مدرسہ کا تعلیم یافتہ نہیں اور نہ کسی عربی تعلیم گاہ کا دستار بند ہے۔امر تسر والوں نے انہیں بہت پریشان کیا لیکن انہوں نے ان کی کچھ پروانہ کی۔سارا دن یہ لوگ ان کا مطبع اور مکان گھیرے رکھتے اور بھانت بھانت کی بولیاں بولتے تھے۔" حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف فتویٰ تکفیر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے حق کی آواز دبانے کا فیصلہ کر کے ہر لحہ حضرت مسیح موعود کی مخالفت میں وقف کر دیا اور اپنی مہم کو کامیاب بنانے کے لئے اس پرانے حربے کو آزمانے کی ٹھانی جو ہر مامور اور امام ربانی کے وقت استعمال ہو تا آرہا ہے یعنی انہوں نے اول المکفرین بن کر ہندوستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ایک طوفانی دورہ کیا اور فتح اسلام " اور " توضیح مرام " کی بعض عبارتوں میں قطع و برید کا سہارا لے کر ایک استفتاء تیار کیا۔علماء سے آپ کے کفر وارتداد کے فتوے حاصل کئے اور پھر اسے اپنے رسالہ اشاعتہ السنہ جلد ۱۳ نمبر ۱۲ میں شائع کر دیا۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اپنی ان معاندانہ سرگرمیوں کے متعلق انہی دنوں خود لکھا تھا کہ ” جون ۱۸۹۱ء سے مارچ ۱۸۹۲ء تک جو اشاعتہ السنہ کا کوئی پرچہ نہیں نکلا تو کیا اس سے وہ غیر حاضر اور اپنے منصبی فرض اور قوم کی خدمت ادا کرنے میں قاصر متصور ہو سکتا ہے۔نہیں ہرگز نہیں۔اس عرصہ میں جو خدمت قلمے۔قدمے اور درے اس نے کی ہے وہ اپنے زمانہ خدمت چودہ سال میں کبھی نہیں کی۔جون ۱۸۹۱ء میں وہ نمبر ۱ ۲ ۳ جلد ۱۳ میں کیفیت گریزد فرار کادیانی اور اس کے فرضی حواری حکیم نور الدین جمونی کی رپورٹ کر کے پھر جولائی ۱۸۹۱ء سے اس اسلام و مسلمانوں کے دوست نما دشمن عقائد قدیمہ اسلامی کے رہزن و بیخ کن ( کاریانی) کے تعاقب میں رہا اور بمشکل و لطائف الحیل جولائی ۱۸۹۱ء بمقام لدھیانہ اس کو جا پکڑا اور بارہ دن تک خوب رگیدا اور چتھاڑا اور ۳۱۔جولائی ۱۸۹۱ء کو ذلت کی شکست دے کر بھگا دیا۔پھر ہندوستان پہنچ کر اس کے عقائد و مقالات کی نسبت ایک استفسار مرتب کیا اور ایک لمبا سفر اختیار کر کے مختلف بلاد ہندوستان کے علماء و فضلاء کا فتویٰ اس کے حق میں حاصل کیا اور خاص دعوام ہندوستان و پنجاب کو اس فتویٰ اور اپنے زبانی بیانات اور مواعظ کے ذریعہ سے اس کے عقائد باطلہ پر آگاہ کر کے اس سے بچنے کے لئے ہو شیار کر دیا۔پھر جب ماہ اکتوبر ۱۸۹ء میں قادیانی نے دہلی پہنچ کر سر اٹھایا۔اور وہاں کے اکابر کے مقابلہ میں جو اس کو مخاطب کرنے کے لائق نہ