تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 382
تاریخ احمدیت۔جلدا ٣٨١ سفر علی گڑھ ما مجدد اعظم " حصہ اول ( صفحہ ۲۱۸-۲۱۹) میں حضرت خلیفہ اول کی بیعت کے متعلق دو سمائی روایات درج ہیں جن میں سے پہلی حضرت خلیفہ اول کے مطبوعہ ملفوظات میں نہیں مل سکی۔اسلئے کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ کہاں تک درست ہے البتہ دوسری روایت " مرقاة الیقین " ( طبع اول صفحہ ۱۴۸ پر درج ہے مگر وہ بیعت اوٹی کے موقعہ کی نہیں قادیان میں آپ کی پہلی بار آمد سے متعلق ہے جیسا کہ حضرت خلیفہ اول کے ان الفاظ سے عیاں ہے کہ ”جب میں قادیان سے یہ حکم لے کر اپنے وطن پہنچا ہی نہیں بلکہ حضرت خلیفہ اول نے الحکم ۲۲ اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۲- ۳ میں صاف طور پر یہ حکم " حضرت کی پہلی ملاقات سے وابستہ قرار دیا ہے پس اسے بیعت اوٹی کی طرف منسوب کرنا صحیح نہیں۔۱۵ بروایت حضرت منشی عبداللہ صاحب سنوری سیرۃ المہدی حصہ اول صفحہ ے سے طبع ثانی حیات احمد جلد سوم صفحہ ۷ ۲ و الحکم ۲۱ - مئی ۱۹۲۴ء صفحه ۳۶ "سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ ؟ ۱۸ الحکم ۲۸ مارچ ۱۹۳۵ء صفحه ۴ (وفات ۷ ۲- نومبر ۱۹۳۹ء) - حضرت ام المومنین حضرت مفتی محمد صادق صاحب اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی تحقیق کے مطابق چالیس افراد ہی نے بیعت کی تھی (ملاحظہ ہو " سیرت المہدی ؟ " حصہ اول صفحہ ۱۸ " ذکر حبیب " صفحه سلسلہ احمدیہ صفحہ ۲۹) (دوسرے ایام کے متعلق) حضرت منشی ظفر احمد صاحب بیان فرمایا کرتے تھے کہ ایک دن میں ہیں پچیس افراد کے قریب بیعت کرتے تھے (ریویو آف ریلیجر اردو جنوری ۱۹۴۲ء صفحه ۱۳) ۲۰ ریویو آف ریجو اردو (جنوری ۱۹۴۲ء صفحه ۱۳) ۰۲۱ حضرت شیخ صاحب ان دنوں تراب کہلاتے تھے مگر بعد کو عرفانی سے موسوم ہوئے۔۲۲- "سیرت المہدی جلد دوم صفحہ ۵ و "حیات احمد " جلد سوم حصہ اول صفحہ ۴۔۲۳- ذکر حبیب صفحه ۹ ۲۴- "حیات احمد " جلد سوم صفحه ۲۳- ۲۵- "ذکر حبیب صفحه ۹ -۲۶ مرقاة الیقین صفحه ۲۲۳) مولفه اکبر شاه خان نجیب آبادی) ۲۷- الحکم ۱۴ فروری ۱۹۳۶ صفحه ۷ ۲۸ حضرت صوفی احمد جان کی دختر تھیں حضرت مولانا نور الدین کی زوجیت کے لئے خود حضرت مسیح موعود نے ان کا انتخاب فرمایا تھا غالبا ۱۸۸۸ء میں وہ حضرت مولانا کے نکاح میں آئیں حضرت اقدس بنفس نفیس برات میں شامل ہوئے تھے۔۷۔اگست ۱۹۵۵ء کو ۸۳ برس کی عمر میں انتقال فرمایا آخری آرامگاہ بہشتی مقبرہ ربوہ میں ہے۔(الفضل ۹- اگست ۱۹۵۵ء) te ۲۹ سیرت المهدی حصہ اول طبع اول صفحہ ۱۸-۱۹ ۳۰- الحکم ۲۸ مارچ ۱۹۳۵ء صفحه ۴ ا دولا کف آن احمد صفحه ۱۵۳ ۳۲- الحکم ۱۴ فروری ۱۹۳۵ء صفحه ۵ ۳۳- "ذکر حبیب " صفحه ۴۳۶ تا ۴۳۹ ۳۴ سیرت المهدی" جلد سوم صفحہ ۱۴ بروایت حضرت میر محمد اسمعیل صاحب صاحب) ۳۵- "حیات احمد " جلد سوم حصہ اول صفحہ ۲۳- اس رجسٹر کی تیاری کے متعلق حضرت اقدس نے پہلی مرتبہ ۴۔مارچ ۱۸۸۹ء کو بذریعہ اشتهار اعلان فرمایا اور ہدایت دی که خود میبالعین اپنے ہاتھ سے خوشخط قلم سے لکھ کر اپنا نام پستہ و نشان بتفصیل مندرجہ بالا بھیج دیں یا اپنے حاضر ہونے کے وقت یہ تمام امور درج کرا دیں " " تبلیغ رسالت " جلد اول صفحه ۱۵۲) ۳۶- پڑھا نہیں گیا (مرتب) ۳۷۔لفظ پڑھا نہیں گیا۔