تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 381
تاریخ احمد بیت - جلدا سفر علی گڑھ حواشی - حیات احمد " جلد دوم نمبر دوم صفحه ۱۲-۱۳ اشتہار یکم دسمبر ۱۸۸۸ء صفحه ۱۲ تبلیغ رسالت " جلد اول صفحه ۱۴۵) سیرت المهدی" جلد دوم صفحه ۵۰د ضمیمه " اصحاب احمد " جلد اول اشتہار " تحمیل تبلیغ ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء " و تبلیغ رسالت " جلد اول صفحه ۱۵۰۰۱۴ tt حیات احمد جلد سوم حصہ اول صفحہ تبلیغ رسالت " جلد اول صفحه ۱۵۰-۱۵۵ سیرت المدی " حصہ اول صفحہ ۷۶ ۷۷ روایت نمبر ۹۲ ( طبع ثانی ۱۹۳۵ء) - سیرت المہدی حصہ اول صفحہ ے سے ضیع دوم یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ رجسٹر بیعت کے لحاظ سے بیعت کے پہلے دن کی تاریخ ۲۱ مارچ قرار پاتی ہے جو کسی طرح صحیح نہیں قرار دی جاسکتی کیونکہ جیسا کہ راقم الحروف نے رسالہ الفرقان ربوہ مئی ۱۹۷۱ء کے مفصل مقالہ میں ثابت کیا ہے۔رجسٹر بیعت میں ناموں کا اندراج بیعت کے انعقاد سے قبل ہی شروع کیا جا چکا تھا اور اس کے ابتدائی اوراق صرف یہ بتاتے ہیں کہ بیعت پر آمادگی کی اطلاع دینے والے بزرگ یا عمل از وقت لدھیانہ پہنچنے والے بزرگ کون کون سے تھے؟ اس سے یہ ہر گز نتیجہ نہیں نکلتا کہ بیعت اوٹی کا آغاز ۲۔مارچ کو ہوا۔اسی طرح ۲۲ مارچ کو بھی بیعت کا آغاز قرین قیاس نہیں ہو سکتا۔کیونکہ انہیں دنوں حضرت مسیح موعود نے حضرت مولانا نور الدین کو ہدایت فرمائی تھی کہ " بجائے ہیں کے بائیس مارچ کو آپ تشریف لادیں۔یعنی یوم یکشنبہ میں" (احکم ۳۱۔مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۴ کالم نمبر ۲ - البدر ۱۲- جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۷ کالم نمبر ۳) انڈا حضرت مولانا نور الدین کو جب ۲۲ مارچ کو لدھیانہ پہنچنے کا ارشاد ثابت ہوا تو اس روز کی بجائے اس سے اگلے ان ۲۳ مارچ ہی یوم بیعت قرار پاتا ہے اور یہی وہ تاریخ ہے جو حضرت منشی عبد اللہ صاحب سنوری نے بیان کی ہے اور یہی ۱۹۱۷ء سے دار البیعت لدھیانہ کے کتنے پر ثبت ہے۔ریویو آف ریلیجمرہ اردو جون جولائی ۱۹۴۳ء) علاوہ ازیں اسی بناء پر حضرت مصلح موعود نے ۲۳- مارچ ۱۹۴۴ء کو لدھیانہ کا جلسہ مصلح موعود مقرر فرمایا ( الفضل -۱۸ فروری ۱۹۵۹ء) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں میں نے گزشتہ جنتری کو دیکھا تو وہاں سے مطابق زبانی روایت ۲۰۔رجب کو ۲۳ مارچ ثابت ہوتی ہے" (سیرت المبد کی حصہ سوم صفحه (۴) -/+ الحکم ۱۴ فروری ۱۹۳۵ء صفحه به تبلیغ رسالت جلد اول صفحه ۱۵۱-۱۵۲ یہ کو ٹھری در اصل حضرت صوفی احمد جان کا جاری کردہ لنگر خانہ تھا۔جسے دار البیعت کا شرف حاصل ہوا۔حضرت صوفی صاحب کے صاحبزادوں نے کچھ عرصہ بعد رہائشی مکان فروخت کر دیا۔اور دار البیعت صد را مجمن کے نام ہے کر دیا۔صد را مجمن نے اس کا انتظام مقامی جماعت کے سپرد کر دیا۔1919ء میں اس کی پہلی شکل میں کچھ تبدیلی کر کے جانب شمال ایک لمبا اور پختہ اور ہوادار کمرہ تیار کروایا گیا۔جس کی شمالی دیوار کی بیرونی سطح پر دار البیعت کا نام اور تاریخ بیعت کا کتبہ مثبت کیا گیا اور صحن میں پختہ اینٹوں کا کوئی بالشت بھر اد نچا چبوترہ اور ایک محراب بنوا کر نماز کے لئے مخصوص کر دیا گیا۔دسمبر ۱۹۳۹ ء میں نماز گاہ پر ایک چھوٹی سی خوبصورت مسجد کی تعمیر ہوئی۔بجلی کے قمقمے آویزاں کئے گئے۔صحن میں نلکہ نصب ہوا اور غسل خانہ جائے ضرور تیار کی گئی۔ایک لیے کمرے کو دو میں تبدیل کر کے مشرقی کمرہ میں احمد یہ لائبریری قائم کی گئی۔اس کمرے کی مشرقی دیوار کے جنوبی کونے کے پہلو میں وہ مقدس جگہ ہے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیٹھ کر پہلی بیعت لی تھی۔اور جماعت کا قیام عمل میں آیا تھا۔ریویو آف ریچر اردو جون جولائی ۱۹۳۳ ء صفحہ ۲۶-۳۹) ۱۹۴۷ء کے ملکی فسادات میں یہ تاریخی یادگار ہندوستان میں رہ گئی -۱۳ بدر ۱۰ اکتوبر ۱۹۱۲ء ( کلام امیر صفحه ۲۵) ۱۳- "سیرة المهدی حصہ اول صفحہ ۷۷ ۷۸۰ ( طبع ثانی ۱۹۳۵) مکتوبات مسیح موعود بنام مولوی عبد اللہ صاحب سنوری دسمبر ۱۹۲۱ و