تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 371
تاریخ احمدیت جلدا ٣٧٠ سفر علی گڑھ ان کے نام مبارک ۲۱ اور ۲۳ مارچ کی دو الگ الگ تاریخوں میں کیوں لکھے گئے ؟ یہ اور اس نوعیت کی سب الجھنیں ، دشواریاں اور پیچیدگیاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مندرجہ بالا وضاحتی اشتہار کی برکت سے بیک جنبش قلم ختم ہو جاتی ہیں اور گویا دن چڑھ جاتا ہے اور اب ہم اس کی بدولت یقین کی فولادی چٹان پر کھڑے ہو کر بلا تامل بنا سکتے ہیں کہ رجسٹر بیعت کے ابتدائی اوراق تو محض یہ راہ نمائی کرتے ہیں کہ کون کون سے بزرگوں نے بیعت پر آمادگی کی اطلاع دی یا بیعت کی خاطر بیعت اولیٰ کے انعقاد سے قبل لدھیانہ تشریف لے آئے۔یہی اور صرف یہی وجہ ہے کہ ۲۲- مارچ سے قبل حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سمیت لدھیانہ آنے والے چھیالیس بزرگوں کے نام مبارک ریکارڈ کئے گئے۔بعینہ اسی حکمت سے حضرت منشی روڑا خان صاحب کا نام ان کے درود لدھیانہ کے بعد ۲۱ مارچ کو اور حضرت منشی ظفر احمد صاحب اور حضرت محمد خان صاحب کے اسماء مبارکہ کا نام ۲۳- مارچ کو درج رجسٹر کیا گیا۔اس وضاحت سے ضمنا یہ بھی ثبوت ملتا ہے کہ حضرت منشی ظفر احمد صاحب اللہ نے اپنے بیان کے مطابق چونکہ لدھیانہ پہنچتے ہی بیعت اوٹی کے پہلے روز دو سرے مخلصین کپور تھلہ کے ساتھ بیعت کی تھی اس لئے ۲۳ مارچ ۱۸۸۹ء کی جو تاریخ ان کے نام کے ساتھ مندرج ہے حتمی طور پر رہی تاریخ بیعت اولیٰ کے آغاز کی ہے۔الخضرار جسر بیعت کے ابتدائی اوراق کی فہرست ہرگز ہرگز مبائعین کی واقعاتی ترتیب و تاریخ کے مطابق تیار اور مرتب نہیں ہوئی لہذا ۱۹ - رجب ۱۳۰۶ھ مطابق ۲۱ - مارچ ۱۸۸۹ء کو بیعت اولی کا دن قرار دینے کا کوئی جواز نہیں۔تحقیق طلب صرف یہ دوسرا امر رہ جاتا ہے کہ حضرت مولانا عبد الله صاحب سنوری الله عنه نے بیعت اوٹی کی قمری تاریخ ۲۰ رجب ۱۳۰۷ھ اور شمسی تاریخ ۲۳- مارچ ۱۸۸۹ء متعین کی ہے حالانکہ "التوفيقات الالهاميه" کی رو سے ۲۰ رجب ۱۳۰۶ھ کو ۲۲۔مارچ ۱۸۸۹ء کا دن بناتا ہے۔اس صورت میں آیا قمری تاریخ کو درست سمجھا جائے یا کسی تاریخ پر اعتماد کیا جائے ؟؟ اس ضمن میں یہ عاجز محض خدا کے فضل و کرم سے علی وجہ البصیرت اس رائے پر قائم ہے کہ حضرت مولانا سنوری رحمتہ اللہ علیہ کی دونوں بیان فرمودہ تاریخیں ہی صحیح ہیں اور اگر کوئی سہو" یا "غلطی" ہے تو وہ مصری تقویم "التوفيقات الالهاميه" کی ہے جس میں ۱۳۰۶ھ کے جمادی الثانی کو انتیس دن کا شمار کر کے یکم رجب ۱۳۰۶ھ کو ۳۔مارچ ۱۸۸۹ء سے شروع کیا گیا ہے جو واقعہ کے خلاف ہے۔حق یہ ہے کہ اس سال جمادی الثانی انتیس کی بجائے تمہیں کا تھا اور یکم رجب ۱۳۰۶ھ کو ۴۔مارچ