تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 370
تاریخ احمدیت جلدا ۳۶۹ سفر علی گڑھ دے) مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض فوائد و منافع بیعت کہ جو آپ لوگوں کے لئے مقدر ہیں اس انتظام پر موقوف ہیں کہ آپ سب صاحبوں کے اسماء مبارکہ ایک کتاب میں بقید ولدیت و سکونت مستقل و عارضی اور کسی قدر کیفیت کے (اگر ممکن ہو) اندراج پاویں اور پھر جب وہ اسماء مندرجہ کسی تعداد موزوں تک پہنچ جائیں تو ان سب ناموں کی ایک فہرست تیار کر کے اور چھپوا کر ایک ایک کاپی اس کی تمام بیعت کرنے والوں کی خدمت میں بھیجی جائے اور پھر جب دوسرے وقت میں نئی بیعت کرنے والوں کا ایک معتد بہ گروہ ہو جائے تو ایسا ہی ان کے اسماء کی بھی فہرست تیار کر کے تمام مبالکین معنے داخلین بیعت میں شائع کی جائے اور ایسا ہی ہو تا رہے۔جب تک ارادہ الہی اپنے اپنے انداز مقدرہ تک پہنچ جائے۔مگر چونکہ یہ کارروائی بجز اس کے باسانی و صحت انجام پذیر نہیں ہو سکتی کہ خود مبائعین اپنے ہاتھ سے خوشخط قلم سے لکھ کر اپنا تمام پتہ و نشان بتفصیل مندرجہ بالا بھیج دیں اس لئے ہر صاحب کو جو صدق دل اور خلوص نام سے بیعت کرنے کے لئے مستعد ہیں تکلیف دی جاتی ہے کہ وہ تحریر خاص اپنے پورے پورے نام و ولدیت و سکونت مستقل و عارضی وغیرہ سے اطلاع بخشیں یا اپنے حاضر ہونے کے وقت یہ تمام امور درج کرا دیں"۔(تبلیغ رسالت جلد اول صفحہ ۱۵۲) حضور انور کے محولہ بالا الفاظ سے ایک گم شدہ کڑی پر اطلاع ملتی ہے اور یہ صداقت نمایاں ہو کر ابھر آتی ہے کہ رجسٹر بیعت میں ناموں کا اندراج بیعت اولی کے انعقاد سے بھی قبل شروع کیا جا چکا تھا لہذا یہ سمجھنا کہ اس رجسٹر میں مین بیعت اولی کے وقت یا اس کے دوران یا معا بعد اندراج ہوا یا اس میں درج شدہ تاریخ لازماً بیعت کی تاریخ ہوگی جہاں تک بیعت اوٹی کے پہلے دن کا تعلق ہے) یقیناً صحیح نہیں ہو سکتا ہاں استثنائی طور پر یہ ضرور ممکن ہے کہ کسی بزرگ کی لدھیانہ پہنچنے، بیعت سے مشرف ہونے اور رجسٹر میں اس کے اندراج کی تاریخ ایک ہی ہو مگر یہ ایک اتفاقی چیز ہے جس کو بہر کیف کلیہ کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔اس وضاحت سے یہ عقدہ لا نخل اور سربستہ راز بھی خود بخود منکشف ہو جاتا ہے کہ رجسٹر بیعت میں پہلے دن کی تاریخ میں بیعت کرنے والے چالیس بزرگوں کی بجائے چھیالیس بزرگوں کا کیوں ذکر ہے؟ اور جب حضرت مولانا عبد الکریم صاحب سیالکوٹی نے پہلے دن بیعت ہی نہیں کی تو پہلی تاریخ میں ان کا نام کیسے درج ہو گیا ؟ اسی طرح جب کپور تھلہ کے تینوں بزرگوں نے پہلے ہی دن بیعت کا اکٹھا شرف حاصل کیا تھا تو