تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 369 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 369

تاریخ احمدیت جلدا ۳۶۸ سفر علی گڑھ دنیائے احمدیت کے نہایت ممتاز مخلص اور فدائی بزرگ اور حضرت مسیح موعود کے عاشق صادق حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کی سوانح اور روایات سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت اقدس علیہ السلام نے بیعت کے لئے اشتہار دیا تو اگر چہ حضرت منشی روڑا خان صاحب اشتہار بیعت ملتے ہی لدھیانہ روانہ ہو گئے تھے اور حضرت منشی ظفر احمد صاحب اور حضرت میاں محمد خان صاحب کپور تھلوی دو سرے دن چل کر تیسرے دن صبح لدھیانہ پہنچے مر کپور تھلہ کی ان تینوں بلند پایہ شخصیتوں نے بیعت اوٹی کے پہلے روز ہی بیعت کرلی تھی۔پہلے حضرت منشی روڑا خان صاحب بیعت ہوئے۔پھر حضرت منشی ظفر احمد صاحب اور بعد ازاں حضرت محمد خان صاحب ( اصحاب احمد جلد چهارم طبع اول صفحه (۹) مگر اس واقعہ کے بر عکس رجسٹر بیعت میں ۲۰۔مارچ کی تاریخ کے تحت ہمیں صرف حضرت منشی روڑا خان صاحب کا نام ملتا ہے اور بقیہ دو عشاق مسیح موعود کے مبارک اسماء ۲۳۔مارچ میں درج کئے گئے ہیں۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان عالی مقام ، مجسم اخلاص اور سرتا پا ندائیت وجودوں اور شمع مسیح کے زندہ جاوید اور بے مثال پروانوں کی واقعاتی شہادتوں اور رجسٹر بیعت کے اس حیرت انگیز اور بالکل کھلے کھلے تفاوت و اختلاف کی آخر وجہ کیا ہے ؟ اور کیا ان میں مطابقت کی کوئی صورت ممکن نہیں ؟ یہ نا چیز جو ابا عرض کرتا ہے کہ اگر گہری تحقیق سے کام لیا جائے تو یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ رجسٹر بیعت کے اندراجات کی اصل اور بنیادی ترتیب بیعت اوٹی کے مبائعین کی عملی بیعت کے اعتبار سے نہیں ابلکہ قبل از وقت بیعت کی اطلاع دینے والوں یا بیعت کی خاطر حضرت اقدس کی خدمت میں لدھیانہ پہنچ جانے والوں کے اعتبار سے ہے۔یہ محض قیاسی یا اجتہادی امر نہیں بلکہ اس کا سراغ براہ را است سید نا المسیح الموعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس اشتہار سے بخوبی ملتا ہے جو حضور نے بیعت اوٹی سے قبل شائع فرمایا اور جس میں رجسٹر بیعت کی غرض و غایت پر بھی روشنی ڈالی گئی تھی۔چنانچہ حضرت اقدس علیہ السلام نے اشتہار مارچ ۱۸۸۹ء میں بیعت کے لئے مستعد اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے تحریر فرمایا۔"اے اخوان مومنین (أَيَّدَ كُمُ اللهُ بِرُوحِ مِنْهُ) آپ سب صاحبوں پر جو اس عاجز سے خالصاً ، مطلب اللہ بیعت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں واضح ہو کہ بالقاء رب کریم و جلیل (جس کا ارادہ ہے کہ مسلمانوں کو انواع و اقسام کے اختلاف اور غل اور حقد اور نزاع اور فساد اور کینہ اور بغض سے جس نے ان کو بے برکت و نکما کر دیا ہے نجات دے کر فاصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا کا مصداق بنا A