تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 336
تاریخ احمدیت جلدا ۳۳۵ جماعت کا سنگ بنیاد ماموریت کا آٹھواں سال اشتهار و تکمیل تبلیغ اور لدھیانہ میں بیعت اولیٰ (۱۸۸۹ء) بیعت کے لئے حکم الہی جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے۔اگر چہ مخلصین کے قلوب میں برسوں سے یہ تحریک جاری تھی کہ حضرت اقدس بیعت لیں۔مگر حضرت اقدس ہمیشہ یہی جواب دیتے تھے کہ لَسْتُ بِمَا مُورِ " (یعنی میں مامور نہیں ہوں) چنانچہ ایک دفعہ آپ نے میر عباس علی صاحب کی معرفت مولوی عبد القادر صاحب کو صاف صاف لکھا کہ "اس عاجز کی فطرت پر توحید اور تفویض الی اللہ غالب ہے اور۔۔۔۔۔چونکہ بیعت کے بارے میں اب تک خداوند کریم کی طرف سے کچھ علم نہیں۔اس لئے تکلف کی راہ میں قدم رکھنا جائز نہیں۔لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذلِكَ اَمْرًا۔مولوی صاحب اخوت دین کے بڑھانے میں کوشش کریں۔اور اخلاص اور محبت کے چشمہ صافی سے اس پودا کی پرورش میں مصروف رہیں تو یہی طریق انشاء اللہ بہت مفید ہو گا " - 1 آخر چھ سات برس بعد ۱۸۸۸ء کی پہلی سہ ماہی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو بیعت لینے کا ارشاد ہوا۔یہ ربانی حکم جن الفاظ میں پہنچارہ یہ تھے۔إِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ وَاصْنَعِ الْفُلْكَ باعْيِنِنَا وَوَحْيِنَا الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَا بِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ " یعنی جب تو عزم کرلے تو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر اور ہمارے سامنے اور ہماری وحی کے تحت (نظام جماعت کی) کشتی تیار کر جو لوگ تیرے ہاتھ پر بیعت کریں گے۔اللہ تعالٰی کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہو گا۔حضرت اقدس کی طبیعت اس بات سے کراہت کرتی تھی کہ ہر قسم کے رطب و بیعت کا اعلان یا بس لوگ اس سلسلہ بیعت میں داخل ہو جائیں۔اور دل یہ چاہتا تھا کہ اس مبارک سلسلہ میں وہی مبارک لوگ داخل ہوں جنکی فطرت میں وفاداری کا مادہ ہے اور کچے نہیں ہیں۔اس لئے آپ کو ایک ایسی تقریب کا انتظار رہا۔کہ جو مخلصوں اور منافقوں میں امتیاز کر دکھلائے۔سو اللہ جل شانہ نے اپنی کمال حکمت و رحمت سے وہ تقریب اسی سال نومبر ۱۸۸۸ ء میں بشیر اول کی وفات