تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 335
۳۳۴ حضرت اقدس کے جدی خاندان سے متعلق قمری نشان و تاریخ احمدیت جلدا عجیب مثال تیرھویں صدی کے مجدد حضرت سید احمد صاحب بر طوی (۱۷۸۶-۱۸۳۱) کی سوانح میں یہ لکھی ہے کہ انہیں الہا بتایا گیا کہ ملک پنجاب ضرور میرے ہاتھ پر فتح ہو گا اور اس فتح سے پہلے مجھ کو موت نہ ہوگی " (تواریخ مجیبه صفحه ۱۸۰ بحوالہ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی از مولوی نور احمد فریدی ملتان لیکن ہوا یہ کہ حضرت سید صاحب بالاکوٹ میں شہید ہو گئے۔اور پنجاب پر انگریز حکمران ہو گئے صاحب تواریخ مجیبہ مولوی محمد جعفر صاحب تھانیسری اس کی توجیہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔سلطنت پنجاب متعصب اور ظالم سکموں کے ہاتھ سے نکل کر ایک ایسی عادل اور آزادلانہ ہب قوم کے ہاتھ میں آگئی جس کو ہم مسلمان اپنے ہاتھ پر فتح ہو نا تصور کر سکتے ہیں اور غالبا سید صاحب کے الہام کی صحیح تعبیر یہی ہوگی جو ظہور میں آئی"۔(بحوالہ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی صفحه (۱۳) در اصل بات یہ ہے جیسا کہ حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ (۱۵۶۴- ۱۶۲۴) نے بڑی تصریح کے ساتھ اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ "قضاء معلق دو طرح پر ہے ایک وہ قضاء ہے جس کا معلق ہو نا لوح محفوظ میں ظاہر کر دیا جاتا ہے اور فرشتوں کو اس پر اطلاع دے دی جاتی ہے۔اور دوسری وہ قضا ہے جس کا معلق ہونا صرف خدا تعالی ہی کے پاس ہوتا ہے اور لوح محفوظ میں قضاء مبرم کی حیثیت رکھتی ہے۔اور قضائے معلق کی اس دوسری قسم میں بھی پہلی قسم کی طرح تبدیلی کا احتمال ہے"۔(ترجمہ مکتوب ۲۱۷ دفتر اول) بالا خریہ نکتہ بھی یادر ہے کہ آسمان پر پڑھے جانے والے نکاح کا زمین پر پڑھا جانا ضروری نہیں ہوتا۔مثلا آنحضرت کا حدیث نبوی کے مطابق مریم بنت عمران کلثوم اخت موسیٰ اور آسیہ زوجہ فرعون سے آسمان پر نکاح پڑھا گیا تھا ( فتح البیان جلد کے صفحہ ۹۹) لیکن دنیا میں یہ ظہور پذیر نہیں ہوا۔اسی طرح حضرت مجدد الف ثانی کو الہام ہوا کہ ان حضرت یحیی علیہ السلام سے بیاہی گئی ہیں۔اور وہ چند لمحے بعد فوت ہو گئیں۔(ملاحظہ ہو " حدیقہ محمودیہ " صفحہ ۱۰۲ کی بیٹی کلثوم مطبوعہ ریاست فرید کوٹ) الفضل ۲۶ فروری ۱۹۳۳ء صفی ۹ ۲۹- الحکم ۷۱۴ - جون ۱۹۴۳ء صفحہ ۱۰۔تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو کتاب " پیش گوئی دربارہ مرزا احمد بیگ " از جناب قاضی محمد نذیر صاحب فاضل لائلپوری) - ۳۱ تبلیغ رسالت جلد اول -۳۲ اسی دوران میں حضرت اقدس نے عید الفطر کی نماز عید گاہ بٹالہ میں پڑھی اور پادری وائٹ پر سخٹ کے متعلق آپ کا ایک اشتہار بھی اس موقعہ پر پڑھا گیا۔چنانچہ اخبار "ریاض ہند " نے ۱۸- جون ۱۸۸۸ء کی اشاعت میں یہ خبر شائع کی ”بنالہ میں اہل اسلام کی عید الفطر اس موقعہ پر خر اسلام جناب مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان جو بٹالہ میں فروکش تھے اسی عید گاہ میں رونق افروز ہوئے۔آدمی قریب چار ہزار کے جمع تھے اول جناب حضرت مخدوم مکرم بنده مولوی محمد قدرت اللہ صاحب سلمہ اللہ تعالٰی نے اپنی پر زور تقریر اور پر تاثیر و عظ سے حاضرین کو فیض بخشی فرمائی اور محفوظ کیا۔اس کے بعد حاجی غلام محمد صاحب نے ایک اشتہار عنوانی پادری وائٹ برینٹ کے لئے اتمام حجت اور فتح مسیح کی درو نگوئی کو بڑی فصاحت سے سنایا "۔"ریاض ہند کا یہ فائل خلافت لائبریری صدرانجمن احمد یہ ربوہ میں محفوظ ہے) ۳۳ تبلیغ رسالت " جلد اول صفحه ۱۰۵ تا ۱ ۳۴- (فارسی عبارت کا ترجمہ) حضور جب شہر پٹیالہ سے متصل قصبہ سنور میں تشریف لائے تو مجھے آپ کی زیارت نصیب ہوئی۔میانہ تر گندم گوں۔کشادہ پیشانی - ڈاڑھی خضاب کی ہوئی عمر چالیس سال کے قریب رکھتے تھے سلام کہہ کر مصافحہ کیا بیٹھ گیا۔بہت مخلوق آپ کے دیدار کے لئے آئی ہوئی تھی۔آپ کے چہرے سے بزرگی اور جلال الہی کے آثار نمایاں تھے۔آپ کا ظاہر احکام شریعت کے موافق اور باطن اللہ جانتا ہے۔علم وحیا آپ پر بہت غالب تھے۔نماز ظہر آپ کے پیچھے ادا کی۔ہر چند کہ ایسے لوگوں کی استعداد شناخت نہیں رکھتا۔مگر ان کا وجود مبارک منزلہ رحمت الہی اور اسلام اور مسلمانوں کے لئے غیر محدود قوت کا موجب ہے۔ان کے مجدد ہونے سے انکار سرا سرا جہل و نادانی ہے۔اللہ تعالی ان کو سلامت رکھے۔۳۵ نزول اصسبیح صفحه ۲۳۲/۲۳۱) طبع اول)