تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 337 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 337

تاریخ احمدیت۔جلدا جماعت کا سنگ بنیاد سے پیدا کر دی۔ملک میں آپ کے خلاف ایک شور مخالفت برپا ہوا اور خام خیال بدظن ہو کر الگ ہو گئے لہذا آپ کی نگاہ میں یہی موقعہ اس بابرکت سلسلے کی ابتداء کے لئے موزوں قرار پایا۔اور آپ نے کیم دسمبر ۱۸۸۸ء کو ایک اشتہار کے ذریعہ سے بیعت کا اعلان عام فرما دیا۔" اس اعلان کے ساتھ جو بیعت سے متعلق اشتهار تحمیل تبلیغ وگزارش ضروری" پہلا اعلان تھا حضور نے بیعت کے لئے معین رنگ میں کوئی خاص شراط نہیں تحریر کئے تھے۔مگر ادھر حضرت المصلح الموعود ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ۱۲- جنوری ۱۸۸۹ء کو دس گیارہ بجے شب (بیت الذکر نمبرا کے زیر سقف کمرہ سے متصل مشرقی کمرہ میں) پیدا ہوئے۔ادھر آپ نے " تکمیل تبلیغ کا اشتہار تحریر فرمایا۔اور اس میں بیعت کی وہ دس شرطیں تجویز فرما ئیں جو جماعت میں داخلہ کے لئے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔اس طرح جماعت احمدیہ اور پسر موعود کی پیدائش تو ام ہوئی یہ دس شرائط بیعت حضرت اقدس کے الفاظ میں یہ ہیں۔اول :- بیعت کنندہ بچے دل سے عہد اس بات کا کرے کہ آئندہ اس وقت تک کہ قبر میں داخل ہو جائے شرک سے مجتنب رہے گا۔دوم :- یہ کہ جھوٹ اور زنا اور بد نظری اور ہر ایک فسق و فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتا رہے گا اور نفسانی جوشوں کے وقت ان کا مغلوب نہیں ہو گا اگرچہ کیسا ہی جذبہ پیش آدے۔سوم : یہ کہ بلاناغہ پنجو کہ نماز موافق حکم خدا اور رسول کے ادا کر تا رہے گا اور حتی الوسع نماز تہجد کے پڑھنے اور اپنے نبی کریم پر درود بھیجنے اور ہر روز اپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور استغفار کرنے میں مداومت اختیار کرے گا اور دلی محبت سے خدا تعالٰی کے احسانوں کو یاد کر کے اس کی حمد اور تعریف کو اپنا ہر رو زور و بنا لیگا۔چهارم: یہ کہ عام خلق اللہ کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصا اپنے نفسانی جو شوں سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہیں دے گا۔نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح سے۔جم :- یہ کہ ہر حال رنج اور راحت اور عمر اور سیر اور نعمت اور بلا میں خدا تعالیٰ کے ساتھ وفاداری کرے گا اور بہر حالت راضی مقضا ہو گا۔اور ہر ایک ذلت اور دکھ کے قبول کرنے کے لئے اس کی راہ میں تیار رہے گا۔اور کسی مصیبت کے وارد ہونے پر اس سے منہ نہیں پھیرے گا۔بلکہ آگے قدم بڑھاے گا۔