تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 314 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 314

تاریخ احمدیت۔جلدا آریہ سماج کا طوفان بے تمیزی حواشی ۲۷- جولائی ۱۸۸۶ء کا ایک اشتہار جو مطبع چشمہ نور افشاں امرتسر میں چھپا اس کا عنوان تھا " بیل نہ کو داکو دی گون"۔ایک رسالہ کا عنوان تھا " سرمہ چشم آریہ کی حقیقت اور فن غریب غلام احمد کی کیفیت " (بحوالہ "شحنه حق " صفحه ۲ طبع دوم) (ترجمہ اشعار) ہم موت سے نہیں ڈرتے ہم نے ایسا خوف دل سے نکال دیا ہے ہم تو اسی دن سے مر چکے ہیں جس دن سے ہم نے غیر سے اپنا دل ہٹا لیا ہے ہم نے اس پیارے (خدا) کی راہ میں جان دول خد ا کر دیا اگر وہ ہماری جان بھی مانگے تو ہم شوق سے حاضر کر یا ہے ہم نے دیں گے۔شحنه حق صفحه ۴۰۳ حاشیه (طبع دوم) "شحنه حق صفحهج تحمید الاذہان جون و جولائی ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۴ "شحنه حق مشهور ہے۔مسٹر محمد الیگزنڈر رب کی مختصر سوانح حیات - ۱۸۴۶ء میں امریکہ کے شہریڈ سن علاقہ نیو یارک میں پیدا ہوئے۔والد ایک م صحافی اور ملکی اخبار کے مدیر تھے اس لئے کالج کی تعلیم کے بعد صحافت ہی کے میدان کا انتخاب کر کے ایک ہفت روزہ اخبار جاری کیا اور جلد ہی قبولیت عامہ کی سند حاصل کی اور مشہور روزنامہ " جوزف مسوری ڈیلی گزٹ کی ادارت سنبھالنے کی دعوت دی گئی اس کے بعد کئی اور اخبارات ان کے سپرد ہوئے اور پھر اب صاحب کی سیاسی قابلیت اور علمی شہرت ولیاقت کی یہاں تک دھوم مچی کہ حکومت امریکہ نے انہیں فلپائن میں اپنا سفیر مقرر کر دیا۔۱۸۷۲ء میں وہ عیسائیت سے برگشتہ ہو گئے اور برسوں لادینی کی حالت میں رہے دنیا کے مختلف مذاہب مثلا بدھ مت وغیرہ کا مطالعہ کیا مگر کہیں تسلی نہیں ہوئی اسی زمانے میں حضور کا انگریزی اشتہار ملا جب داعی حق کی یہ آواز سنی تو امید کی کرن دیکھ کر حضرت اقدس سے خط و کتابت شروع کر دی اور بالاخر اسلام لے آئے۔(ماخوذ از رساله " تائید حق " صفحه ۸۳-۸۴ طبع سوم مرتبہ مولانا حسن علی) ولادت ۲۲ اکتوبر ۱۸۵۲ء وفات ۴۱۸۹۶ - ۳۱۳ اصحاب کہار میں آپ کا نام 41 نمبر پر درج ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ وال سے آپ کے متعلق ایک دفعہ فرمایا۔"مولوی حسن علی صاحب بھاگلپوری گریجوایٹ نہ تھے مگر انگریزی کی ان میں اتنی قابلیت تھی کہ ہزاروں آدمی جمع ہو جاتے تھے اور ان کی تقریر سنتے تھے وہ اسی طرح بغیر کسی معاوضہ کی دین کی خدمت کے لئے پھرتے تھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود کے لئے بطور شاہد کے تھے"۔(الفضل ۳۔جولائی ۱۹۲۲ء صفحہ سے کالم نمبر) نیز فرمایا۔انہوں نے ایک کتاب " تائید حق بھی لکھی ہے۔جو نہایت اعلیٰ درجہ کی کتاب ہے۔میں نے ایک دفعہ اس کتاب کو پڑھنا شروع کیا۔تو میں اس وقت تک سویا نہیں جب تک کہ میں نے اس ساری کتاب کو ختم نہ کر لیا۔مولوی صاحب شروع شروع میں ایمان لائے پھر احمد بیت کی تبلیغ کے لئے ملک کے مختلف علاقوں میں پھرتے ہے"۔(الفضل 11 جنوری ۱۹۵۸ء صفحہ ۱۳ کالم ۴) پروفیسر آرنلڈ نے اپنی کتاب The Preaching of Talam (اشاعت اسلام صفحہ ۲۸۳) میں اخبار مسلم کرانیکل (۴) اپریل ۱۸۹۶ء) کے حوالہ سے ان کی مختصر سوانح بھی درج کی ہے اور ان کی شاندار تبلیغی خدمات کا تذکرہ کیا ہے۔۹ ذکر حبیب " صفحه ۳۸۱ تا ۳۹۰ از حضرت مفتی محمد صاق صاحب ) ترجمه مکتوب ۳۰- اگست و ۳- ستمبر ۱۹۰۸ء ( حوالہ "حیات احمد " جلد دوم نمبر ۳ صفحه ۲۰۷-۲۰۸) یہ پیر صاحب ضلع حیدر آباد سندھ تحصیل ہالہ میں رہتے ہیں ان کے لاکھوں لاکھ مرید ہیں اور علاقہ سندھ میں لوگ ان کی بڑی قدر کرتے ہیں ان کی کرامات بزرگی کے سب قائل ہیں۔منہ و تائید حق " صفحه ۸۴-۸۹ ( طبع سوم) سوال کف آن احمد صفحه ۱۲۴ "مسيرة المهدی حصہ دوم صفحه ۹۵