تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 14 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 14

تاریخ احمدیت۔جلدا سلسلہ احمدیہ کا تعارف سیاسی لیڈروں نے آپ کے مجاہدانہ کارناموں کو خراج عقیدت پیش کیا اور غیر مذاہب پر آپ کی نمایاں کامیابی کا واضح لفظوں میں اقرار کیا۔چنانچہ مولانا ابو الکلام آزاد نے (جو بعد کو امام الہند سے موسوم ہوئے ) لکھا: " مرزا صاحب کی اس رحلت نے ان کے بعض دعاوی اور معتقدات سے شدید اختلاف کے باوجود ہمیشہ کی مفارقت پر مسلمانوں کو ان تعلیم یافتہ اور روشن خیال مسلمانوں کو محسوس کرا دیا۔کہ ان کا ایک بڑا شخص ان سے جدا ہو گیا اور اس کے ساتھ مخالفین اسلام کے مقابلہ پر اسلام کی اس شاندار مدافعت کا جو اس کی ذات سے وابستہ تھی خاتمہ ہو گیا۔ان کی یہ خصوصیت کہ وہ اسلام کے مخالفین کے برخلاف ایک فتح نصیب جرنیل کا فرض پورا کرتے رہے ہمیں مجبور کرتی ہے کہ اس احساس کا کھلم کھلا اعتراف کیا جائے تاکہ وہ مہتم بالشان تحریک جس نے ہمارے دشمنوں کو عرصہ تک پست اور پائمال بنائے رکھا آئندہ بھی جاری رہے "۔اس مدافعت نے نہ صرف عیسائیت کے ابتدائی اثر کے پر خچے اڑائے جو سلطنت کے سایہ میں ہونے کی وجہ سے حقیقت میں اس کی جان تھا اور ہزاروں لاکھوں مسلمان اس کے اس زیادہ خطرناک اور مستحق کامیابی حملہ کی زد سے بچ گئے بلکہ خود عیسائیت کا طلسم دھواں ہو کر اڑنے لگا۔" غرض مرزا صاحب کی یہ خدمت آنے والی نسلوں کو گر انبار احسان رکھے گی کہ انہوں نے قلمی جہاد کرنے والوں کی پہلی صف میں شامل ہو کر اسلام کی طرف سے فرض مدافعت ادا کیا اور ایسا لٹریچر یادگار چھوڑا جو اس وقت تک کہ مسلمانوں کی رگوں میں زندہ خون رہے اور حمایت اسلام کا جذبہ ان کے شعار قومی کا عنوان نظر آئے قائم رہے گا "۔" مرزا صاحب کا دعوی تھا کہ میں حکم و عدل ہوں۔۔۔لیکن اس میں کلام نہیں کہ ان مختلف مذاہب کے مقابل پر اسلام کو نمایاں کر دینے کی ان میں مخصوص قابلیت تھی"۔خلافت اولی کے زمانہ میں کاروان احمدیت اور آگے بڑھا اور مسلمانوں کے مختلف عناصر کو محسوس ہونے لگا کہ اسلام کی آئندہ ترقی جماعت احمدیہ کے ساتھ وابستہ ہے۔چنانچہ امرتسر کے ایک نامور جرنلسٹ ( مسٹر محمد اسلم) محض اس خیال کا اندازہ لگانے کے لئے قادیان پہنچے۔سیدنا نور الدین کے درس سے فیض یاب ہونے کے علاوہ جماعت احمدیہ کے افراد کا قریب سے مطالعہ کیا اور پھر واپس آکر ایک طویل مضمون میں اپنے تاثرات قلمبند کئے جن میں لکھا کہ : عالم اسلام کی خطرناک تباہ انگیزیوں نے مجھے اس اصول پر قادیان جانے پر مجبور کیا کہ احمدی جماعت جو بہت عرصہ سے یہ دعوی کر رہی ہے کہ وہ دنیا کو تحریری و تقریری جنگ سے مغلوب کر کے