تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 13
تاریخ احمدیت۔جلدا سلسلہ احمدیہ کا تعارف حضور نے اپنی جماعت کو بالخصوص یہ نصیحت فرمائی کہ : ee یہ مقام دار الحرب ہے پادریوں کے مقابلہ میں۔اس لئے ہم کو چاہئے کہ ہم ہرگز بے کار نہ بیٹھیں۔مگر یاد رکھو کہ ہماری حرب ان کے ہم رنگ ہو جس قسم کے ہتھیار لے کر میدان میں وہ آئے ہیں اسی طرز کے ہتھیار ہم کو بلے کر نکلنا چاہئے اور وہ ہتھیار ہے قلم۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے اس عاجز کا نام سلطان القلم رکھا اور میرے قلم کو ذو الفقار علی فرمایا۔اس میں یہی سر ہے کہ یہ زمانہ جنگ و جدل کا نہیں ہے بلکہ قلم کا زمانہ ہے۔پھر جب یہ بات ہے تو یاد رکھو کہ حقائق اور معارف کے دروازوں کے کھلنے کے لئے ضرورت ہے تقویٰ کی۔اس لئے تقویٰ اختیار کرو " " فتح اسی کو ملتی ہے جس سے خدا خوش ہو۔اس لئے ضروری امر یہ ہے کہ ہم اپنے اخلاق اور اعمال میں ترقی کریں اور تقویٰ اختیار کریں تاکہ خدا تعالیٰ کی نصرت اور محبت کا فیض ہمیں ملے۔پھر خدا کی مدد کو لے کر ہمارا فرض ہے اور ہر ایک ہم میں سے جو کچھ کر سکتا ہے۔اس کو لازم ہے کہ وہ ان حملوں کے جواب دینے میں کوئی کوتاہی نہ کرے۔ہاں جواب دیتے وقت نیت یہی ہو کہ خدا تعالیٰ کا جلال ظاہر ہو " تقوی اخلاص اور ایمان کی چمکتی ہوئی تلواروں کے ساتھ دشمنان اسلام کے خلاف قلمی ولسانی جہاد۔یہی آپ کی پوری دعوت کا لب لباب اور خلاصہ تھا اور یہی اس اسلامی عمارت کی بنیاد تھی جسے دنیا بھر میں تعمیر کرنے کے لئے آپ اس جہان میں تشریف لائے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنی زندگی میں اپنے مشن کی تکمیل میں کتنی شاندار کامیابی ہوئی اس کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگ سکتا ہے کہ تحریک احمدیت کے قیام سے صرف پانچ برس بعد ۱۸۹۴ء میں پادریوں کی ایک عالمی کانفرنس کے سامنے لارڈ بشپ آف گلوسٹر ریورنڈ چارلس جان ایلی کوٹ نے نہایت درجہ گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا کہ : اسلام میں ایک نئی حرکت کے آثار نمایاں ہیں۔مجھے ان لوگوں نے جو صاحب تجربہ ہیں بتایا ہے کہ ہندوستان کی برطانوی مملکت میں ایک نئی طرز کا اسلام ہمارے سامنے آ رہا ہے اور اس جزیرے میں بھی کہیں کہیں اس کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔۔۔یہ ان بدعات کا سخت مخالف ہے جن کی بناء پر محمد کا مذہب ہماری نگاہ میں قابل نفرین قرار پاتا ہے۔اس نئے اسلام کی وجہ سے محمد کو پھر وہی پہلی سی عظمت حاصل ہوتی جا رہی ہے یہ نئے تغیرات با آسانی شناخت کئے جاسکتے ہیں۔پھر یہ نیا اسلام اپنی نوعیت میں مدافعانہ ہی نہیں بلکہ جارحانہ حیثیت کا بھی حامل ہے افسوس ہے تو اس بات کا کہ ہم میں سے بعض کے ذہن اس کی طرف مائل ہو رہے ہیں"۔یہ تو آپ کی زندگی کا واقعہ ہے آپ کی وفات کے بعد (متحدہ) ہندوستان کے بڑے بڑے مذہبی اور