تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 12 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 12

تاریخ احمد بیت - جلد ا مسلہ احمدیہ کا تعارف اسلام کی عمارت کو کانا رکھنا پسند کریں گے۔اگر انگریز عیسائی ہی رہیں، ہندو ہندو ہی رہیں تو اسلامی حکومت دنیا میں قائم نہیں ہو سکتی۔ہاں اس کے قائم کرنے کا ایک ہی طریق ہے اور اس طریق کے ذریعہ ہی دنیا میں ہمیشہ کام ہوا کرتا ہے۔اگر کوئی شخص کا نا ہی اور وہ کسی دوسرے سو جاکھے کی آنکھ نکال کر اپنے کانا پن کو دور کرنا چاہے تو سارے لوگ اسے بے وقوف سمجھیں گے کیونکہ دوسرے کی آنکھ نکال کر اس کا کانا پن دور نہیں ہو سکتا۔اسی طرح اگر کوئی ہو قوف یہ سمجھے کہ چند انگریزوں کو مار کر یا فتنہ و فساد پیدا کر کے وہ اسلامی حکومت قائم کر سکے گا تو وہ حماقت کا ارتکاب کرتا ہے"۔پس یہ طریق بالکل نادرست ہے اور میں ہمیشہ اس کی مخالفت کر تا رہا ہوں لیکن جائز اور پر امن طریق سے اسلامی حکومت قائم کرنا ہماری دلی خواہش ہے اور میں سمجھتا ہوں ہم میں سے ہر ایک کے دل میں یہ آگ ہونی چاہئے کہ ہم موجودہ طرز حکومت کی بجائے حکومت اسلامی قائم کریں۔یہ طبعی خواہش ہے اور میرے دل میں ہر وقت موجود رہتی ہے۔ہاں میرے اور عام لوگوں کے ذرائع میں اختلاف ہے۔میں اسلامی حکومت کے قیام کے لئے تبلیغی اور پر امن ذرائع اختیار کرتا ہوں اور وہ کہتے ہیں کہ اس کے قائم کرنے کا طریق مار پیٹ اور جبر و تشدد ہے۔بہر حال یہ خواہش یقینا ایک دن پوری ہو گی دنیا کی مخالفتیں اور دشمنوں کی روکیں مل کر بھی اس میں حائل نہیں ہو سکتیں"۔جس چیز کا خدا تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا ہے وہ آخر ہو کر رہے گی۔چاہے اس پر عیسائی برا منائیں چاہے موسائی بر امنا ئیں ، چاہے سکھ بر امنا ئیں۔یہ خدا تعالیٰ کی قضا ہے کہ دنیا میں اسلامی حکومت قائم کی جائے گی اور جو چیز ایک دن ہونے والی ہوا سے ہم نے چھپانا کیا ہے اور اس پر اگر کوئی برا مناتا ہے تو ہم اس کا علاج کیا کر سکتے ہیں۔ان بصیرت افروز بیان میں اسلامی حکومت کے عالمگیر قیام کے لئے اگر چہ دو اصولی ذرائع کا ذکر کیا گیا ہے (۱) تبلیغ (۲) دیگر آئینی ذرائع لیکن حقیقت یہ ہے کہ جہاں تک عالمگیر اسلامی حکومت کے قیام کا تعلق ہے۔جماعت احمدیہ کے نزدیک تبلیغ کو ابتداء ہی سے اولیت حاصل رہی ہے۔چنانچہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے وقت کے تقاضے کے عین مطابق ہر مسلمان کو پوری قوت سے کفر کا علمی مقابلہ کرنے کی دعوت دی۔چنانچہ آپ نے فرمایا: ہر ایک مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ اس زمانہ کے درمیان جو فتنہ اسلام پر پڑا ہوا ہے اس کے دور کرنے میں کچھ حصہ لے۔بڑی عبادت یہی ہے کہ اس فتنے کو دور کرنے میں کچھ نہ کچھ حصہ لے۔اس وقت جو بدیاں اور گستاخیاں پھیلی ہوئی ہیں چاہئے کہ اپنی تقریر اور علم کے ذریعہ سے اور ہر ایک قوت کے ساتھ جو اس کو دی گئی ہے مخلصانہ کوشش کے ساتھ ان باتوں کو دنیا سے اٹھارے"۔