تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 290
تاریخ احمد مینت جلدا ۲۸۹ سفر ہوشیار پور کو بھی بیگانوں نے تسلیم کیا۔چنانچہ مفکر احرار چوہدری افضل حق (۱۸۹۲ء- ۱۹۴۲ء) نے آپ کے متعلق لکھا۔جس قدر روپے احرار کی مخالفت میں قادیان خرچ کر رہا ہے اور جو عظیم الشان دماغ اس کی پشت پر ہے وہ بڑی سے بڑی سلطنت کو پل بھر میں درہم برہم کرنے کے لئے کافی تھا۔چھٹی شہادت : پسر موعود کے متعلق ایک اہم خبر یہ دی گئی تھی کہ وہ اسیروں کی رستگاری کا موجب ہو گا"۔یہ پیشگوئی جس حیرت انگیز رنگ میں پوری ہوئی اس نے انسانی عقل کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے اور تحریک آزادی کشمیر اس پر شاہد ناطق ہے۔کیونکہ اس تحریک کو کامیاب بنانے کا سہرا " آل انڈیا کشمیر کمیٹی" کے سر ہے۔یہ مشہور کمیٹی حضور کی تحریک اور ہند وپاکستان کے بڑے بڑے مسلم زعماء مثلاً سر ذو الفقار علی خاں (وفات ۱۹۳۳ء) ڈاکٹر سر محمد اقبال (۱۸۷۳-۱۹۳۸ء) خواجہ حسن نظامی دہلوی (۱۸۷۸- ۱۹۵۵ء) سید حبیب مدیر اخبار "سیاست" وغیرہ کے مشورہ سے ۲۵۔جولائی ۱۹۳۱ء کو شملہ میں قائم ہوئی اور اس کی صدارت حضور کو سونپی گئی تھی۔آپ کی کامیاب قیادت کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانان کشمیر جو مدتوں سے انسانیت کے ادنیٰ حقوق سے بھی محروم ہو کر غلامی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ایک نہایت قلیل عرصے میں آزادی کی فضاء میں سانس لینے لگے ان کے سیاسی اور معاشی حقوق تسلیم کئے گئے۔ریاست میں پہلی دفعہ اسمبلی قائم ہوئی اور تقریر و تحریر کی آزادی کے ساتھ انہیں اس میں مناسب نمائندگی ملی۔جس پر مسلم پریس نے حضرت مصلح موعود کے شاندار کارناموں کا اقرار کرتے اور آپ کو خراج تحسین ادا کرتے ہوئے یہاں تک لکھا کہ "جس زمانہ میں کشمیر کی حالت نازک تھی اور اس زمانہ میں جن لوگوں نے اختلاف عقائد کے باوجود مرزا صاحب کو صدر منتخب کیا تھا انہوں نے کام کی کامیابی کو زیر نگاہ رکھ کر بہترین انتخاب کیا تھا۔اس وقت اگر اختلاف عقائد کی وجہ سے مرزا صاحب کو منتخب نہ کیا جاتا۔تو تحریک بالکل ناکام رہتی۔اور امت مرحومہ کو سخت نقصان پہنچا " عبد المجید سالک (۱۸۹۴-۱۹۵۹ء) تحریک آزادی کشمیر کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں ”شیخ محمد عبد اللہ (شیر کشمیر) اور دوسرے کارکنان کشمیر مرزا محمود احمد صاحب اور ان کے بعض کار پردازوں کے ساتھ۔۔۔۔۔اعلانیہ روابط رکھتے تھے اور ان روابط کی بناء محض یہ تھی کہ مرزا صاحب کثیر الوسائل ہونے کی وجہ سے تحریک کشمیر کی امداد کئی پہلوؤں سے کر رہے تھے اور کارکنان کشمیر طبعا ان کے ممنون " ro-"¿ وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا" آسمانی کلام دقیق بھی ہوتا ہے اور ذو المعارف بھی۔اور اس کے اسرار و غوامض کا سلسلہ نہایت درجہ وسیع ہوتا ہے اور ہر طلوع ہونے والی صبح اس کی عظمتوں پر ایک نئی گواہی پیش کرتی ہے اس نقطہ نظر کے مطابق