تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 289 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 289

تاریخ احمدیت۔جلدا ۲۸۸ سفر ہوشیار پور وہ ضرور مرزا صاحب کے خاندان سے اور آپ کی اولاد سے ہی ہو۔چنانچہ خلیفہ اول ایک ایسے صاحب ہوئے جن کا میرزا صاحب کے خاندان سے کوئی واسطہ نہ تھا پھر بہت ممکن تھا کہ مولوی حکیم نورالدین صاحب خلیفہ اول کے بعد بھی کوئی اور صاحب خلیفہ ہو جاتے۔چنانچہ اس موقعہ پر بھی مولوی محمد علی صاحب امیر جماعت لاہور خلافت کے لئے امیدوار تھے لیکن اکثریت نے میرزا بشیر الدین صاحب کا ساتھ دیا اور اس طرح آپ خلیفہ مقرر ہو گئے۔اب سوال یہ ہے کہ اگر بڑے میرزا صاحب کے اندر کوئی روحانی قوت کام نہ کر رہی تھی تو پھر آخر آپ یہ کس طرح جان گئے کہ میرا ایک بیٹا ایسا ہو گا جس وقت مرزا صاحب نے مندرجہ بالا اعلان کیا ہے اس وقت آپ کے تین بیٹے تھے آپ تینوں کے لئے دعا ئیں بھی کرتے تھے لیکن پیشگوئی صرف ایک کے متعلق ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ وہ ایک فی الواقع ایسا ثابت ہوا ہے کہ اس نے ایک عالم میں تغیر پیدا ۳۹ کر دیا ہے"۔تیسری شہادت:- پسر موعود کی آمد کا مقصود یہ تھا کہ ” تا دین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو"۔بر صغیر ہند و پاکستان کے مشہور مسلم لیڈر اور شعلہ نواشاعر مولوی ظفر علی خاں آف "زمیندار" (۱۸۷۳-۱۹۵۷ء) نے کھلے لفظوں میں اعتراف کرتے ہوئے کہا۔”کان کھول کر سن لو تم اور تمہارے لگے بندھے مرزا محمود کا مقابلہ قیامت تک نہیں کر سکتے۔مرزا محمود کے پاس قرآن ہے اور قرآن کا علم ہے تمہارے پاس کیا دھرا ہے۔۔۔تم نے کبھی خواب میں بھی قرآن نہیں پڑھا۔۔۔مرزا محمود کے پاس ایسی جماعت ہے جو تن من دھن اس کے اشارے پر اس کے پاؤں پر نچھاور کرنے کو تیار ہے۔۔۔مرزا محمود کے پاس مبلغ ہیں، مختلف علوم کے ماہر ہیں۔دنیا کے ہر ملک میں اس نے جھنڈا گاڑ رکھا ہے لدي چوتھی شہادت : پسر موعود سے متعلق وعدہ الہی تھا کہ وہ "اولو العزم" ہو گا۔نیز یہ کہ وہ " علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا۔چنانچہ ہندوستان کے نامور صوفی خواجہ حسن نظامی دہلوی (۱۸۷۸- ۱۹۵۵) نے آپ کی قلمی تصویر کھینچتے ہوئے لکھا۔اکثر بیمار رہتے ہیں مگر بیماریاں ان کی عملی مستعدی میں رخنہ نہیں ڈال سکتیں۔انہوں نے مخالفت کی آندھیوں میں اطمینان کے ساتھ کام کر کے اپنی مغلئی جوانمردی کو ثابت کر دیا۔اور یہ بھی کہ مغل ذات کار فرمائی کا خاص سلیقہ رکھتی ہے۔سیاسی سمجھ بھی رکھتے ہیں اور مذہبی عقل و غم میں بھی قوی ہیں۔اور جنگی ہنر بھی جانتے ہیں۔یعنی دماغی اور قلمی جنگ کے ماہر ہیں "۔پانچویں شہادت:۔خدا تعالی نے خبر دی تھی کہ پسر موعود سخت ذہین و فہیم ہو گا۔اس حقیقت ام