تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 291 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 291

تاریخ احمدیت۔جلدا سفر ہوشیار پور اگر پسر موعود کی پیشگوئی دیکھی جائے تو اس کا لفظ لفظ بحر مواج نظر آتا ہے۔جس کا سطحی سااندازہ اوپر کی سطور سے باسانی لگ سکتا ہے۔اسی طرح ” وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا۔کہنے کو تو اس تاریخی پیشگوئی کے الفاظ میں ایک مختصر سا فقرہ ہے مگر دست قدرت نے اس میں " تین " کے لفظ کو عمومیت کا رنگ دے کر واقعات کی ایک دنیا آباد کر دی اور بتایا کہ خدا تعالیٰ کے علم میں اس خدائی خبر کا ظہور کئی بار مقدر ہے تا ایک لمبے عرصے تک اتمام حجت کے تقاضے پوری آب و تاب سے پورے ہوتے رہیں۔چنانچہ پہلی اور دوسری بار اس کا ظہور سید نا حضرت مصلح موعود کی ولادت با سعادت کے وقت ہوا جب کہ حضور ایک تو پیشگوئی کے انکشاف سے چوتھے سال یعنی ۱۸۸۹ء میں جلوہ افروز عالم ہوئے۔دوسرے آپ حضرت مرزا سلطان احمد صاحب مرزا افضل احمد صاحب اور بشیر اول کے بعد پیدا ہوئے اور چوتھے فرزند تھے۔اس خبر کا تیسری بار ظهور ۲۵ دسمبر ۱۹۳۰ء کو حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کی بیعت کے ذریعہ ہوا مرزا سلطان احمد صاحب سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حرم اول سے فرزند اکبر تھے اور انہیں حضور کی مقدس زندگی کا ایک بہت بڑا دو ر دیکھنے کی سعادت ملی اور وہ آپ کو بصدق دل عاشق رسول اور عاشق قرآن یقین کرتے تھے مگر وہ حضور کی زندگی میں بیعت میں شامل نہ ہوئے حضرت خلیفہ اول کو مرزا صاحب موصوف سے انتہا درجہ کی محبت و الفت تھی اور وہ اکثر حضرت اقدس کے سامنے آپ کی بعض کتب کی تعریف کیا کرتے تھے اور منشاء یہ ہو تا تھا کہ حضور کی نظر کرم صاجزادہ صاحب کی طرف ہو جائے اور ان کے لئے دعا فرما ئیں۔ایک دفعہ آپ نے اپنے معمول کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے مرزا سلطان احمد صاحب کی ایک کتاب کا ذکر کیا تو حضور نے فرمایا۔”مرزا سلطان احمد سے کہو کہ خدا سے صلح کرلے۔لیکن صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب کو حضرت اقدس کی زندگی میں اپنے مقدس باپ کی بیعت کا موقعہ میسر نہ آیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے انتقال کے بعد خلافت اولی کا زمانہ آیا۔مگر اب بھی حضرت خلیفہ المسیح اول سے خاص عقیدت کے بار صف صاجزادہ صاحب سلسلہ احمدیہ میں داخل نہ ہوئے۔اس کے بعد حضرت خلیفہ امسیح الثانی کی خلافت کا دور شروع ہو گیا۔اور اب بظا ہر مرزا سلطان احمد کے حق کی طرف آنے کا امکان یکسر ختم ہو گیا۔کیونکہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی آپ کے چھوٹے بھائی تھے اور با ہم عمر کا تفاوت اس درجہ تھا کہ مرزا سلطان احمد صاحب کی برات اسی دن گئی تھی جس دن حضرت مسیح موعود دوسری شادی کے لئے ولی تشریف لے گئے تھے۔چنانچہ وہ خود بھی حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی سے خلافت ثانیہ کے ابتداء میں یہ تذکرہ کیا کرتے تھے کہ بڑے مرزا صاحب زندہ ہوتے تو میں ان کی