تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 11
تاریخ احمدیت جلدا I سلسلہ احمدیہ کا تعارف جماعت احمد یہ اپنی اس خوش بختی پر جس قدر ناز کرے کم ہے کہ خدا تعالٰی کے فضل و کرم سے اس نے اپنے قیام کے روز اول ہی سے عالمگیر اسلامی حکومت کے قیام کے متعلق اپنے نصب العین کو ایک لمحہ اوجھل نہیں ہونے دیا۔بالخصوص انگریزی دور حکومت میں تو اس نے یہ نعرہ حق بلند کرنے میں ہمیشہ ہی ایک پاکباز مومن اور جانباز مجاہد کی طرح اعلان عام کیا کہ : "ہم نے تو کبھی یہ بات نہیں چھپائی کہ ہم دنیا میں اسلامی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں بلکہ ہم کھلے طور پر کہتے ہیں کہ ہم اسلامی حکومت دنیا پر قائم کر کے رہیں گے "۔ہاں حضرت امام جماعت احمدیہ ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ساتھ ہی یہ تصریح بھی فرماتے رہے کہ "ہم جس چیز کا انکار کرتے ہیں وہ یہ کہ تلوار اور فتنہ و فساد کے زور سے ہم اسلامی حکومت قائم نہیں کریں گے بلکہ دلوں کو فتح کر کے اسلامی حکومت قائم کریں گے۔کیا کوئی خیال کر سکتا ہے کہ اگر آج میرے بس میں یہ ہو کہ میں انگلستان کے تمام لوگوں کو مسلمان بنادوں۔وہاں کے وزراء کو اسلام میں داخل کردوں اور پارلیمنٹ کے ممبروں کو بھی مسلمان بنا کر وہاں اسلامی حکومت قائم کر دوں تو میں اپنے اس اختیار سے کام لینے سے انکار کروں گا؟ میں تو ایک منٹ کی بھی دیر نہیں لگاؤں گا اور کوشش کروں گا کہ فوراً ان لوگوں کو مسلمان بنا کر انگلستان میں اسلامی حکومت قائم کر دوں۔لیکن یہ چونکہ میرے بس کی بات نہیں اس لئے میں کر نہیں سکتا۔ورنہ میں اس بات سے انکار تو نہیں کرتا کہ میرے دل میں یہ خیال ہے اور یقیناً میرے دل کی یہ خواہش ہے کہ ہمارے بادشاہ بھی مسلمان ہو جائیں، زراء بھی مسلمان ہو جائیں، پارلیمنٹ کے ممبر بھی مسلمان ہو جائیں اور برطانیہ کے تمام باشندے بھی مسلمان ہو جائیں اس میں اگر دیر ہے تو اس لئے نہیں کہ میری یہ خواہش نہیں کہ وہ مسلمان ہوں بلکہ اس لئے دیر ہے کہ ان کو مسلمان کرنا میرے اختیار میں نہیں اور اس وجہ سے وہاں اسلامی حکومت قائم نہیں کی جاسکتی ورنہ اسلامی حکومت قائم کرنے کے لئے میرے دل میں تو اتنی زبر دست خواہش ہے کہ اس کا کوئی اندازہ ہی نہیں لگا سکتا۔اور اپنی اس خواہش کا میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔اور اگر میں انکار کروں اور میرے دل میں اسلامی حکومت کے قائم کرنے کی خواہش نہ ہو تو اسلام کے احکام کے وہ حصے کس طرح پورے ہو سکتے ہیں جن کے لئے ایک نظام کی ضرورت ہے۔کیا کوئی شخص پسند کرے گا کہ اس کا گھر ادھورا رہے۔اگر کوئی شخص اپنے مکان کے متعلق پسند نہیں کرتا کہ وہ ادھورا رہے تو خدا تعالٰی کے گھر کے متعلق وہ یہ امرکب پسند کرے گا؟ اس میں کیا شک ہے کہ جب تک دنیا مسلمان نہیں ہو جاتی اس وقت تک اسلام کی عمارت کافی رہتی ہے اور اپنی عمارت کا کانا ہونا کون پسند کر سکتا ہے۔ہر شخص اپنی عمارت کو مکمل دیکھنا چاہتا ہے تو کب کوئی عقلمند ہم سے یہ امید رکھ سکتا ہے کہ ہم