تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 277 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 277

تاریخ احمدیت جلدا ۲۷۶ سفر ہوشیار پور میں کھانا چھوڑ نے اوپر جایا کرتا تھا اور حضور سے کوئی بات نہیں کرتا تھا مگر کبھی حضور مجھ سے خود کوئی بات کرتے تھے تو جواب دے دیتا تھا۔ایک دفعہ حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا۔میاں عبد اللہ ان دنوں میں مجھ پر بڑے بڑے خدا تعالیٰ کے فضل کے دروازے کھلے ہیں اور بعض اوقات دیر دیر تک خدا تعالیٰ مجھ سے باتیں کرتا رہتا ہے اگر ان کو لکھا جاوے تو کئی درق ہو جا دیں۔۔۔پسر موعود کے متعلق الہامات بھی اسی چلہ میں ہوئے تھے اور بعد چلہ کے ہوشیار پور سے ہی آپ نے اس پیشگوئی کا اعلان فرمایا تھا جب چالیس دن گزر گئے تو پھر آپ حسب اعلان ہیں دن اور وہاں ٹھہرے۔ان دنوں میں کئی لوگوں نے دعوتیں کیں اور کئی لوگ نے ہی تبادلہ خیالات کے لئے آئے اور باہر سے حضور کے پرانے ملنے والے لوگ بھی مہمان آئے انہی دنوں میں مرلی دھر سے آپ کا مباحثہ ہوا۔جو رمہ چشم آریہ میں درج ہے جب دو مہینے کی مدت پوری ہوگی تو حضرت صاحب واپس اسی راستہ سے قادیان روانہ ہوئے ہو شیار پور سے پانچ چھ میل کے فاصلہ پر ایک بزرگ کی قبر ہے جہاں کچھ باغیچہ سا لگا ہوا تھا وہاں پہنچ کر حضور تھوڑی دیر کے لئے پہلی سے اتر آئے اور فرمایا یہ عمدہ سایہ دار جگہ ہے یہاں تھوڑی دیر ٹھہر جاتے ہیں اس کے بعد حضور قبر کی طرف تشریف لے گئے میں بھی پیچھے پیچھے ساتھ ہو گیا۔اور شیخ حامد علی اور فتح خاں بلی کے پاس رہے آپ مقبرہ پر پہنچ کر اس کا دروازہ کھول کر اندر گئے اور قبر کے سرہانے کھڑے ہو کر دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور تھوڑی دیر تک دعا فرماتے رہے پھر واپس آئے اور مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا ” جب میں نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو جس بزرگ کی یہ قبر ہے وہ قبر سے نکل کر دو زانو ہو کر میرے سامنے بیٹھ گئے اور اگر آپ ساتھ نہ ہوتے تو میں ان سے باتیں بھی کر لیتا۔انکی آنکھیں موٹی موٹی ہیں اور رنگ سانولا ہے "۔پھر کہا کہ دیکھو اگر یہاں کوئی مجاور ہے تو اس سے ان کے حالات پوچھیں۔چنانچہ حضور نے مجاور سے دریافت کیا۔اس نے کہا میں نے ان کو خود نہیں دیکھا کیونکہ ان کی وفات کو قریباً ایک سو سال گزر گیا ہے۔ہاں اپنے باپ یا دادا سے سنا ہے کہ یہ اس علاقہ کے بڑے بزرگ تھے اور اس علاقہ میں ان کا بہت اثر تھا۔حضور نے پوچھا ان کا حلیہ کیا تھا؟ وہ کہنے لگا سنا ہے سانولا رنگ تھا اور موٹی موٹی آنکھیں تھیں۔پھر ہم وہاں سے روانہ ہو کر قادیان پہنچ گئے"- پسر موعود اور جماعت کی ترقی سے متعلق زبر دست پیشگوئی سفر ہوشیار پور کے ان اجمالی حالات میں حضور کی چلہ کشی پسر موعود کی پیشگوئی اور مباحثہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جن کا تفصیلی ذکر اب کیا جاتا ہے۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام (جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے ) ہوشیار پور میں محض چلہ کشی کے