تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 276
تاریخ احمد بیت - جلد ! ۲۷۵ سفر ہوشیار پور ہوشیار پور جانے لگے تو مجھے خط لکھ کر حضور نے قاریان بلالیا۔اور شیخ سر علی رئیس ہوشیار پور کو مخط لکھا کہ میں دوماہ کے واسطے ہو شیار پور آنا چاہتا ہوں کسی ایسے مکان کا انتظام کر دیں جو شہر کے ایک کنارہ پر ہو اور اس میں بالا خانہ بھی ہو۔شیخ صر علی نے اپنا ایک مکان جو طویلہ کے نام سے مشہور تھا خالی کروا دیا۔حضور پہلی میں بیٹھ کر دریائے بیاس کے راستے تشریف لے گئے۔میں اور شیخ حامد علی اور فتح خاں ساتھ تھے۔فتح خاں رسولپور متصل ” ٹانڈہ ضلع ہوشیار پور کا رہنے والا تھا اور حضور کا بڑا معتقد تھا مگر بعد میں مولوی محمد حسین بٹالوی کے اثر کے نیچے مرتد ہو گیا۔حضور جب دریا پر پہنچے تو چونکہ کشتی تک پہنچنے کے رستہ میں کچھ پانی تھا اس لئے ملاح نے حضور کو اٹھا کر کشتی میں بٹھایا جس پر حضور نے اسے ایک روپیہ انعام دیا۔دریا میں جب کشتی چل رہی تھی حضور نے مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ میاں عبد اللہ کامل کی صحبت اس سفردریا کی طرح ہے جس میں پار ہونے کی بھی امید ہے اور غرق ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔میں نے حضور کی یہ بات سرسری طور پر سنی مگر جب فتح خان مرتد ہوا تو مجھے حضرت کی یہ بات یاد آئی۔خیر ہم راستہ میں فتح خان کے گاؤں میں قیام کرتے ہوئے دو سرے دن ہو شیار پور پہنچے وہاں جاتے ہی حضرت صاحب نے طویلہ کے بالا خانہ میں قیام فرمایا اور اس غرض سے کہ ہمارا آپس میں کوئی جھگڑا نہ ہو ہم تینوں کے الگ الگ کام مقرر فرما دیے۔چنانچہ میرے سپرد کھانا پکانے کا کام ہوا۔فتح خان کی یہ ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ بازار سے سودا و غیرہ لایا کرے شیخ حامد علی کا یہ کام مقرر ہوا کہ گھر کا بالائی کام اور آنے جانے والے کی مہمان نوازی کرے۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود نے بذریعہ دستی اشتہارات اعلان کر دیا کہ چالیس دن تک مجھے کوئی صاحب ملنے نہ آدیں۔اور نہ کوئی صاحب مجھے دعوت کے لئے بلائیں۔ان چالیس دن کے گزرنے کے بعد میں یہاں میں دن اور ٹھہروں گا۔ان ہیں دنوں میں ملنے والے ہمیں دعوت کا ارادہ رکھنے والے دعوت کر سکتے ہیں اور سوال و جواب کرنے والے سوال و جواب کرلیں۔اور حضرت صاحب نے ہم کو بھی حکم دے دیا کہ ڈیوڑھی کے اندر کی زنجیر ہر وقت لگی رہے اور گھر میں بھی کوئی شخص مجھے نہ بلائے۔میں اگر کسی کو بلاؤں تو وہ اسی حد تک میری بات کا جواب دے جس حد تک کہ ضروری ہے اور نہ اوپر بالا خانہ میں کوئی میرے پاس آوے۔میرا کھانا او پر پہنچا دیا جاوے مگر اس کا انتظار نہ کیا جاوے کہ میں کھانا کھالوں۔خالی برتن پھر دوسرے وقت لے جایا کریں۔نماز میں اوپر الگ پڑھا کروں گا تم نیچے پڑھالیا کرو۔جمعہ کے لئے حضرت صاحب نے فرمایا کوئی ویران سی مسجد تلاش کرو جو شہر کے ایک طرف ہو۔جہاں ہم علیحدگی میں نماز ادا کر سکیں۔چنانچہ شہر کے باہر ایک باغ تھا اس میں ایک چھوٹی سی ویران مسجد تھی۔وہاں جمعہ کے دن حضور تشریف لے جایا کرتے تھے۔اور ہم کو نماز پڑھاتے تھے اور خطبہ بھی خود پڑھتے تھے "۔