تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 278 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 278

تاریخ احمدیت۔جلدا и ۲۷۷ سفر ہوشیار پور لئے تشریف لے گئے تھے اور شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پور کے مکان کی بالائی منزل میں آپ چالیس روز تک دعاؤں میں مصروف رہے اس دوران میں حضور کی خلوت نشینی کا عجیب رنگ تھا۔شہر والوں سے تو دستی اشتہارات کے ذریعہ سے ملاقات کی ممانعت تھی اور اپنے تینوں خادموں کو بھی جو آپ کے مسفر تھے زبانی یہ حکم دے دیا تھا کہ ڈیوڑھی کی زنجیر ہر وقت لگی رہے اور کوئی شخص گھر میں بھی مجھے نہ بلائے میں اگر کسی کو بلاؤں تو وہ اتناہی میری بات کا جواب دے جتنا ضروری ہے کھانا پہچانے کے لئے بھی حضور سے انہیں اوپر اجازت لے کر جانا پڑتا تھا۔اللہ تعالی کی طرف سے اس عرصہ میں مکالمات و مخاطبات کا وسیع سلسلہ جاری ہوا۔چنانچہ منشی عبداللہ صاحب سنوری ایک دفعہ جب کھانا لے کر او پر گئے تو حضور نے فرمایا کہ مجھے الہام ہوا ہے۔" بورک من فيها و من حولها " اور حضور نے تشریح فرمائی کہ من فیھا سے تو میں مراد ہوں اور من حولها سے تم لوگ۔اسی طرح ایک دو سرے۔موقعہ پر فرمایا۔” مجھے خدا اس طرح مخاطب کرتا ہے اور مجھ سے اس طرح کی باتیں کرتا ہے کہ اگر میں ان میں سے کچھ تھوڑا سا بھی ظاہر کر دوں تو یہ جو معتقد نظر آتے ہیں سب پھر جاویں “۔ان سب الہامات میں اہمیت اس پیشگوئی کو حاصل ہے جس میں آپ کو پسر موعود کی خبرد یگئی۔اسی لئے جب چلہ ختم ہوا تو حضرت اقدس نے اپنے قلم سے ۲۰۔فروری ۱۸۸۶ء کو ایک اشتہار تحریر فرمایا۔جو اخبار ریاض ہند امرت سریکم مارچ ۱۸۸۶ء کی اشاعت میں بطور ضمیمہ شائع ہو چنانچہ آپ نے لکھا۔پہلی پیشگوئی بالهام اللہ تعالیٰ و اعلامہ عزو جل خدائے رحیم و کریم بزرگ و برتر نے جو ہر یک چیز پر قادر ہے ( جل شانہ و عزاسمہ) مجھ کو اپنے الہام سے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں اسی کے موافق جو تو نے مجھ سے مانگا سو میں نے تیری تضرعات کو سنا اور تیری دعاؤں کو اپنی رحمت سے بپا یہ قبولیت جگہ دی اور تیرے سفر کو (جو ہوشیار پور اور لدھیانہ کا سفر ہے) تیرے لئے مبارک کر دیا سو قدرت اور رحمت اور قربت کا نشان تجھے دیا جاتا ہے فضل اور احسان کا نشان تجھے عطا ہوتا ہے اور فتح اور ظفر کی کلید تجھے ملتی ہے اے مظفرا تجھ پر سلام۔خدا نے یہ کہا تا وہ جو زندگی کے خواہاں ہیں موت کے پنجہ سے نجات پادیں اور وہ جو قبروں میں دبے پڑے ہیں باہر آدیں اور تادین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو اور ناحق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آجائے اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے اور تالوگ سمجھیں کہ میں قادر ہوں جو چاہتا ہوں کرتا ہوں اور تاوہ یقین لائیں۔میں کہ تیرے ساتھ ہوں اور تا انہیں جو خدا کے وجود پر ایمان نہیں لاتے اور خدا اور خدا کے دین اور